پاکستان کیلیے ایل این جی لے جانے والے ٹینکر پر آبنائے ہرمز کے قریب حملہ، جہاز واپس خلیج کی جانب روانہ
دوحہ: آبنائے ہرمز کے قریب پاکستان کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والے بحری جہاز کو حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ٹینکر قطر سے گیس لے کر پاکستان آرہا تھا اور اسے ایران کی جانب سے محفوظ گزرگاہ کی اجازت بھی دی گئی تھی۔ حملے کے نتیجے میں عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا، تاہم جہاز نے اپنا راستہ تبدیل کرکے واپس خلیج کی جانب سفر شروع کردیا۔ ایل این جی ٹینکر کو جمعے کی رات نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں جہاز کے عملے کے کسی رکن کو نقصان نہیں پہنچا اور ٹینکر بھی محفوظ ہے، حملے کے اثرات کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے قطر سے ایل این جی لے جانے والے بحری جہاز المائدہ کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے ایران سے مذاکرات کیے تھے،مارشل آئی لینڈ کے پرچم تلے سفر کرنے والا یہ ٹینکر قطر سے ایل این جی لے کر آبنائے ہرمز کی جانب بڑھ رہا تھا۔
رپورٹ میں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حملے سے چند گھنٹے قبل ایرانی حکام نے ٹینکر کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کی منظوری دی تھی، اس اجازت کے باوجود جہاز کو حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ واقعے کے بعد ٹینکر نے اپنا طے شدہ راستہ تبدیل کیا اور واپس خلیج کی جانب روانہ ہوگیا۔
دوسری جانب قطر کی وزارت خارجہ نے واقعے پر جاری بیان میں کہا ہے کہ قطر بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اپنے اثاثوں کے تحفظ اور اپنے بحری جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے، متعلقہ حکام واقعے اور اس کے ذمہ داروں کی تحقیقات کررہے ہیں۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق ایل این جی کی یہ کھیپ پاکستان نہ پہنچنے کی صورت میں ملک کو عالمی منڈی سے متبادل گیس خریدنا پڑسکتی ہے،جنگ سے پہلے کے مقابلے میں عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتیں 3 گنا سے بھی زیادہ ہوچکی ہیں۔
اس صورت حال کے باعث پاکستان کے لیے گیس کی درآمد کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے جبکہ ایل این جی کی مقررہ کھیپ کی عدم آمد سے ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل انتظامات کرنا پڑسکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی سلامتی اور توانائی کی ترسیل سے متعلق صورت حال پر بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت