اتوار، 1 نومبر، 2026 · 22 جمادی الاول، 1448 ہجری

غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو واپس جانا ہوگا، گورنر خیبرپختونخوا

قومی خبریں

پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین سے متعلق وفاقی حکومت کی پالیسی پر عمل درآمد کیا جائے گا اور غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کو واپس جانا ہوگا، صوبے میں امن و امان کے قیام، ضم اضلاع کی ترقی اور عوامی محرومیوں کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اختلافات سے بالاتر ہوکر مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے صوبے کے لیے 160 ارب روپے فراہم کیے جا رہے ہیں، جن میں سے 70 فیصد رقم ان علاقوں میں خرچ کی جائے گی جو ماضی میں ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی سہولیات کے حوالے سے محروم رہے ہیں، ضم اضلاع کو بھی ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہاں ترقیاتی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے اور عوام کے مسائل حل ہوں۔

افغان مہاجرین سے متعلق سوال پر گورنر خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ اس معاملے پر وفاقی حکومت کی پالیسی اختیار کی جائے گی، غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو پاکستان چھوڑ کر واپس جانا ہوگا اور اس حوالے سے وفاق کے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم صوبے کے امن اور استحکام کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقوں کو ایک مؤقف پر متفق ہونا پڑے گا۔ صوبے کو امن کا گہوارہ بنانا اور اس کا تشخص بہتر کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،امن و امان کی بہتری کے لیے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر اقدامات کرنا ہوں گے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کرپشن اور جرائم کے الزامات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی کے خلاف بدعنوانی کے الزامات سامنے آئے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے جبکہ کسی شخص پر جرائم ثابت ہوں تو اسے قانون کا سامنا کرنا پڑے گا، جب تک معاشرے میں سزا اور جزا کا مؤثر نظام قائم نہیں ہوگا، اس وقت تک حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں قانون کی بالادستی اور احتساب کا نظام مضبوط بنانا ضروری ہے تاکہ بدعنوانی اور جرائم کی حوصلہ شکنی ہو اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہوسکے، صوبے کے پائیدار امن، ترقی اور بہتر تشخص کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت