ایران کی شرائط تسلیم ہونے کے بعد ہی امریکا سے مذاکرات کی نوعیت طے ہوگی: عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد ہی براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کا فیصلہ کیا جائے گا، فی الحال امریکی حکام سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ ثالثی ممالک قطر اور پاکستان ہمارے مطالبات پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں، ثالثوں نے جوہری معاملے پر تجاویز پیش کی ہیں جن کا جائزہ لے رہے ہیں، جوہری معاملے پر مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جاری ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے پیغام کا جائزہ لیا ہے اور اس پر اعلیٰ سطح کے اجلاس میں تبادلہ خیال کیا گیا، ایران کے ساتھ وسیع مذاکرات کے لیے امریکی کوشش مثبت قدم ہے تاہم موجودہ حالات میں امریکی حکام سے ملاقات کی کوئی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر جے ڈی وینس کے پیغام کا مقصد اختلافات پیدا کرنا ہے تو یہ امریکا کی ایک اور غلطی ہوگی، واشنگٹن کی جانب سے ہمارے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد مذاکرات کے براہ راست یا بالواسطہ ہونے کا فیصلہ کریں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق ایران کی شرائط میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد عائد پابندیاں اٹھانا اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنا شامل ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران کی تجویز واضح ہے، ایرانی شرائط پر آبنائے ہرمز کھلنے سے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی۔
بشکریہ روزنامہ جسارت