نئے صوبوں کا قیام: بلاول بھٹو کے بیان پر سوشل میڈیاصارفین کا سخت ردعمل
کراچی : نئے صوبوں سے متعلق بلاول بھٹو کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔
واضح رہے کے حال ہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نئے صوبوں کے قیام کی بحث پر یہ مؤقف اپنایا تھا کہ نئے صوبوں کے حوالے سے سندھ اسمبلی نے فل اسٹاپ لگا دیا ہے۔ تاہم ان کا یہ بیان سوشل میڈیا صارفین اور کراچی کے شہریوں میں پذیرائی حاصل نہ کر سکا ہےاور اس پر سوشل میڈیا پلیٹ فورم ٹیوٹر(ایکس) فیس بک اور دیگر پرسخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
صارفین نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ سیاست اور عوامی مسائل میں کبھی بھی حتمی ‘فل اسٹاپ’ نہیں ہوتا کیونکہ جہاں بات ختم سمجھی جائے وہیں سے اکثر حالات ایک نئے پیراگراف کا آغاز کرتے ہیں۔ٹیوٹر (ایکس ) پر ایک صارف نے لکھا ہےکہ جمہوری نظام میں عوام کی ضروریات اور انتظامی سہولیات کی بنیاد پر کسی بھی مسئلے پر باقاعدہ گفتگو اور پیشرفت کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔اسی طرح فیس بک استعمال کرنے والے ایک صارف نے بلاول بھٹو کے اس بیان کو لکیر کی فقیر سیاست قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔اور لکھا ہے کہ کراچی پاکستان کا معاشی انجن ہے اور ملک کو سب سے زیادہ محصول دینے والا شہر ہے لیکن طویل عرصے سے بنیادی سہولیات، انتظامی خودمختاری اور بااختیار بلدیاتی نظام سے محروم ہے۔
اسی طرح ایک اور سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ نئے صوبے یا بااختیار انتظامی یونٹ کی مانگ کسی کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ بہتر حکمرانی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا تقاضا ہے۔بڑی تعداد میں سوشل میڈیا صارفین نے فیس بک اور اپنے ٹیو ٹر(ایکس) اکاونٹ پر لکھا ہے کہ ملک کی آبادی میں اضافے اور انتظامی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے صوبوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔
صارفین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سندھ اسمبلی کا فیصلہ حتمی سچ نہیں ہو سکتا اور اگر عوام کا مطالبہ اور ضرورت سامنے ہو تو آئین اور جمہوریت کے تحت ایک نیا باب اور پیراگراف لکھا جا سکتا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت