ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026 · 21 جمادی الاول، 1448 ہجری

دوبارہ حملے کی صورت میں جنگ کے خاتمے کی شرائط ایران طے کرے گا:ایرانی سپریم لیڈر

قومی خبریں

تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلح افواج کو دشمن کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جوابی کارروائی کے لیے جغرافیائی حدود کو آڑے نہیں آنے دیا جائے گا۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈروں کے نام جاری کردہ اہم تزویراتی ہدایات میں کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے دشمنانہ عزائم سے منسلک تمام مادی اور غیر مادی اثاثے ایرانی افواج کی پہنچ اور نشانے میں ہونے چاہییں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مخالف قوتوں نے دوبارہ فوجی یا دہشت گردانہ حملوں کا راستہ اختیار کیا تو جنگ کے خاتمے کا وقت اور اس کی شرائط کا فیصلہ ایران خود کرے گا۔ کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب پوری قوت سے دیا جائے اور جوابی کارروائی کو کسی مخصوص جغرافیائی دائرے تک محدود نہ رکھا جائے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے فوجی قیادت پر زور دیا کہ ممکنہ اہداف سے متعلق معلومات اور اعداد و شمار کا نظام مسلسل تازہ رکھا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مؤثر کارروائی کی جاسکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن کے تمام متعلقہ اثاثے ایرانی افواج کے ممکنہ اہداف میں شامل ہوں گے۔

ایرانی سپریم لیڈر کے مطابق مخالف قوتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دانش مندانہ حکمت عملی اور مؤثر جنگی تیاری ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط دفاعی صلاحیت اور پیشگی تیاری ہی دشمن کو کسی نئی کارروائی سے روکنے اور زیادہ سے زیادہ دفاعی روک تھام یقینی بنانے کی بنیادی شرط ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران مغربی ایشیا میں ایک نیا سیاسی اور سلامتی کا نظام قائم کرنے کا خواہاں ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور اسرائیل کے ساتھ تہران کی کشیدگی بدستور برقرار ہے اور خطے میں ایک بار پھر فوجی تصادم کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت