ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026 · 21 جمادی الاول، 1448 ہجری

روسی حملوں کے بعد یوکرین میں بجلی کا بحران، 2 لاکھ سے زائد افراد اندھیرے میں رہنے پر مجبور

قومی خبریں

کیف: یوکرین کے وسطی علاقے دنیپروپیٹروفسک میں روسی فضائی حملوں کے نتیجے میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوگیا، جس کے باعث 2 لاکھ سے زائد صارفین بجلی کی فراہمی سے محروم ہوگئے، جبکہ متعدد علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر بجلی منقطع کرنا پڑی۔

غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یوکرینی فضائیہ نے بتایا ہے کہ روسی فوج نے رات کے وقت مختلف علاقوں پر بیلسٹک میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ذریعے حملے کیے، جن میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں دنیپرو شہر اور اس کے اطراف بجلی کی فراہمی کا نظام متاثر ہوا۔

متعلقہ بجلی کمپنی کے مطابق قومی گرڈ آپریٹر نے دنیپرو شہر، اس کے نواحی اضلاع اور پاولوہراد کے بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی عارضی طور پر معطل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ حملوں کے باعث بجلی کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی بحالی کے لیے توانائی کے شعبے کا عملہ مسلسل کام کررہا ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کی جاسکے۔

یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایک روز قبل جمعرات کو دنیپرو کے مصروف ریلوے اسٹیشن پر بھی روسی ڈرون نے تباہی مچائی تھی۔ اس حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے حملے کو انتہائی ہولناک قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔

یوکرینی حکام کا الزام ہے کہ روس مسلسل ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ بجلی اور دیگر ضروری سہولتوں کی فراہمی متاثر کرکے یوکرین کی مزاحمت کمزور کی جاسکے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سردیوں کی آمد سے قبل بجلی اور حرارتی نظام کو پہنچنے والا نقصان لاکھوں شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔

دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے رات کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں یوکرین کے ایک ہزار سے زائد ڈرون تباہ کردیے۔ تاہم یہ اعداد و شمار روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت