ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026 · 21 جمادی الاول، 1448 ہجری

امریکا ایران کشیدگی: قطری ثالثوں کی دوبارہ تہران آمد اور سفارتی رابطے تیز

قومی خبریں

تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے قطر کے ثالثوں نے تہران کا دوبارہ دورہ شروع کر دیا ہے۔

اس پیش رفت کو دونوں عالمی قوتوں کے مابین برف پگھلانے کی اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے حوالے سے عالمی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قطری وفد کی تہران آمد کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ فعال بنانا ہے۔ یہ سفارتی مشن مکمل طور پر امریکی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطے اور ہم آہنگی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے تاکہ کسی حتمی نتیجے تک پہنچا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تہران میں موجود قطری سفارت کاروں کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ قطر ایک بار پھر خطے کے اہم تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکی حکام اور ایرانی قیادت کے درمیان براہ راست رابطوں کی کمی کے باعث قطر کا یہ کردار دونوں ممالک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ابھی تک قطری وفد کی ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور مذاکرات کے ایجنڈے کے بارے میں کوئی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔ دونوں فریقوں کی جانب سے خاموشی برقرار ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بات چیت انتہائی حساس نوعیت کے معاملات پر مرکوز رکھی جا رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عہدیداروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قطر دونوں ممالک کے درمیان خلیج کم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ ان سفارتی کوششوں کا حتمی نتیجہ کب برآمد ہوگا اور کیا یہ ملاقاتیں کسی بڑے معاہدے کی جانب پیش قدمی ثابت ہوں گی یا نہیں۔

واضح رہے کہ قطر کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو خطے میں جاری پیچیدہ تنازعات کے دوران غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنی ساکھ رکھتے ہیں۔ ماضی میں بھی قطر کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کئی سنگین بحرانوں کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث اب عالمی برادری کی نظریں اس نئی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت