ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026 · 21 جمادی الاول، 1448 ہجری

ایتھوپیا: ڈرون حملے میں بے گھر افراد کی خیمہ بستی تباہ، خواتین و بچوں سمیت 16 ہلاکتیں

قومی خبریں
ایتھوپیا: ڈرون حملے میں بے گھر افراد کی خیمہ بستی تباہ، خواتین و بچوں سمیت 16 ہلاکتیں

ادیس ابابا: ایتھوپیا کے علاقے امہارا میں نقل مکانی کرنے والے افراد کے ایک کیمپ پر ہونے والے ہولناک ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 16 شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 22 افراد شدید زخمی ہو گئے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جنوبی وولو کے علاقے میں قائم معروف ترک کیمپ پر ہونے والا یہ حملہ انتہائی تباہ کن ثابت ہوا جہاں جنگ کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے والے افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ ڈرون حملے کا یہ سلسلہ دوپہر کے وقت شروع ہوا۔

حملہ آوروں نے کیمپ کو یکے بعد دیگرے کئی بار نشانہ بنایا جس کے باعث وہاں موجود عارضی خیموں میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ مقامی ذرائع کے مطابق ڈرون نے تقریباً 15 منٹ کے وقفے سے کل 5 مرتبہ کیمپ پر بمباری کی جس سے شدید تباہی مچی۔

اس المناک واقعے میں جان گنوانے والوں میں 3 حاملہ خواتین، ایک 8 سالہ بچی اور اسکول جانے والے کئی طلبا بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا جبکہ تشویشناک حالت والے افراد کو ڈیسّی کے بڑے اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔

کیمپ میں مجموعی طور پر 1800 سے زائد بے گھر افراد مقیم تھے جنہیں اس اچانک حملے نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سانحے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہلاک ہونے والے 15 افراد کی تدفین ایک ہی اجتماعی قبر میں کرنا پڑی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی بھی عسکری گروپ یا سرکاری فریق نے قبول نہیں کی ہے۔

علاقے میں جاری کشیدگی اور نقل مکانی کے بحران کے درمیان اس حملے نے انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔

حکام اور امدادی اداروں کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے عام شہریوں کے تحفظ کے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے جبکہ متاثرہ خاندانوں میں غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت