ڈالر بلند، روپے کی قدر کم: دیامر بھاشا اور داسو ڈیم کی لاگت میں کھربوں کا اضافہ

اسلام آباد: ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر نے ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ بڑے ترقیاتی منصوبوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی میں پیش کردہ وزارت آبی وسائل کی تازہ ترین دستاویزات کے مطابق دیامر بھاشا اور داسو ہائیڈرو پاور منصوبوں کی لاگت میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔
وزارت آبی وسائل نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے پی سی ون کی لاگت 479 ارب روپے سے بڑھ کر 1121 ارب روپے تک جا پہنچی ہے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت میں 642 ارب روپے کا نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کی بڑی وجہ غیر ملکی کرنسی کے ریٹ میں تبدیلی ہے۔
داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے جہاں پروجیکٹ کی لاگت 486 ارب سے چھلانگ لگا کر 1740 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
حکام کے مطابق اس منصوبے پر اخراجات میں 260 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ ملکی معیشت پر بوجھ ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق روپے کی قدر میں کمی اور عالمی منڈی میں مہنگائی کے باعث تعمیراتی سامان کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ سیمنٹ کی ایک بوری کی قیمت 530 روپے سے بڑھ کر 1610 روپے ہو چکی ہے، جو کہ 204 فیصد تک اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔
اسی طرح اسٹیل اور سریے کے نرخوں میں بھی 268 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی قیمت 72 ہزار روپے فی میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2 لاکھ 65 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔ یہ مہنگائی ملکی ترقیاتی بجٹ اور منصوبوں کی تکمیل میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔
توانائی کے شعبے میں بھی ڈیزل کی قیمتوں نے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل 72 روپے سے مہنگا ہو کر 414 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکا ہے، جس میں 472 فیصد اضافہ ہوا۔ روپے کی قدر میں مسلسل کمی نے عام آدمی کے ساتھ ساتھ سرکاری منصوبوں کو بھی دیوالیہ کے قریب پہنچا دیا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت