فیس بک پر کم عمر صارفین کی حفاظت کے لیے نیا فیچر متعارف کرا دیا گیا

میٹا کی زیر ملکیت دنیا کی سب سے بڑی سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم فیس بک نے فیس بک پر کم عمر صارفین کی ذہنی صحت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے والدین کو خبردار کرنے کا نیا نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت بچوں کی جانب سے خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق مواد تلاش کرنے پر والدین کو اطلاع دی جائے گی۔
کمپنی کے مطابق یہ سہولت ان والدین کے لیے دستیاب ہوگی جو اپنے بچوں کے فیس بک اکاؤنٹس کی نگرانی کے لیے مخصوص انتظامات استعمال کررہے ہیں۔ نئے نظام کا مقصد بچوں کی آن لائن سرگرمیوں میں ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرکے والدین کو بروقت آگاہ کرنا اور انہیں اپنے بچوں کی مدد کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
میٹا نے اپنے ایک بلاگ میں بتایا کہ اگر کوئی کم عمر صارف مختصر وقت کے دوران متعدد مرتبہ خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے سے متعلق مواد تلاش کرے گا تو اس کے والدین کو اطلاع بھیجی جائے گی۔ اس طرح بچوں کی مسلسل ایسی تلاشوں کو ممکنہ خطرے کی علامت سمجھتے ہوئے والدین کو خبردار کیا جاسکے گا۔
نئے نظام کے تحت صرف فیس بک پر ہونے والی تلاشوں ہی کی نگرانی نہیں کی جائے گی بلکہ میٹا کے مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون نظام سے ہونے والی گفتگو کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔ اگر کوئی کم عمر صارف میٹا اے آئی سے بات چیت کے دوران خودکشی یا خود کو نقصان پہنچانے کے موضوع پر گفتگو کرے گا تو بھی والدین کو آگاہ کیا جائے گا۔
یہ سہولت میٹا کی ایک اور سماجی رابطوں کی ایپ انسٹاگرام پر پہلے سے موجود ہے، تاہم اب اسے فیس بک میں بھی شامل کیا جارہا ہے تاکہ کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے والدین کو مزید مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ والدین کو بھیجی جانے والی اطلاعات میں بچوں کی جانب سے تلاش کی گئی مخصوص اصطلاحات یا مصنوعی ذہانت سے ہونے والی گفتگو کی تفصیلات شامل نہیں ہوں گی۔ اس کے بجائے والدین کو بچوں سے بات چیت کرنے اور ان کی ذہنی کیفیت کو سمجھنے کی ترغیب دی جائے گی، جبکہ ضرورت پڑنے پر مدد فراہم کرنے والی ہیلپ لائنز سے متعلق معلومات بھی فراہم کی جائیں گی۔
تاہم میٹا نے تاحال یہ تفصیل جاری نہیں کی کہ کس نوعیت کی تلاش یا گفتگو پر والدین کو اطلاع بھیجی جائے گی اور ان اطلاعات کو متحرک کرنے کے لیے کیا معیار مقرر کیا گیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس نظام کے تحت خطرے کی نشاندہی کے طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلات بھی سامنے نہیں آئی ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت