سرحدی علاقوں میں ناکامی، بھارتی سکیورٹی پالیسی کی کمزوریوں کا بھانڈا پھوٹ گیا

نئی دہلی: بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات میں شدت آنے کے بعد مودی حکومت کی دفاعی پالیسی کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ چین کے مقابلے میں بھارتی فوج کی سرحدی ناکامیاں حکومتی حکمت عملی کی کمزوری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
چینی فوج کی جانب سے پیشہ ورانہ مہارت اور تکنیکی برتری نے بھارتی سکیورٹی ڈھانچے میں موجود سنگین خامیوں کو کھل کر عیاں کر دیا ہے۔ عالمی جریدوں کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بھارتی عسکری منصوبہ بندی اپنے ہمسایہ ممالک کے چیلنجز کا سامنا کرنے میں ناکام ہے۔
گزشتہ برسوں کے دوران چین اور بھارت کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں بیس بھارتی اہلکاروں کی ہلاکت نے مودی حکومت کی جنگی صلاحیتوں پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان واقعات نے بھارتی عسکری تیاریوں کے دعوؤں کو بے اثر کر کے رکھ دیا ہے۔
حالیہ سیٹلائٹ تصاویر نے متنازع علاقوں پر چین کے مضبوط تزویراتی کنٹرول اور بھارتی فوج کی ناکامی کی تصدیق کی ہے۔ ان تصاویر سے واضح ہوتا ہے کہ چینی فوج نے بھارتی سرحدوں کے اندر کئی کلومیٹر تک پیش قدمی کرتے ہوئے اپنے خیمے نصب کر لیے ہیں جو بڑی سکیورٹی ناکامی ہے۔
اُدھر برطانوی خبر رساں اداروں نے بھی اپنی رپورٹس میں بھارتی افواج کی نااہلی کو موضوع بنایا ہے۔
ان رپورٹس کے مطابق چینی افواج کی جانب سے بھارتی حدود میں مسلسل پیش قدمی نے نئی دہلی کی علاقائی بالادستی کے خواب کو چکنا چور کر دیا ہے اور عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
سکیورٹی ماہرین نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعات نے مودی حکومت کی ناکام علاقائی پالیسی کا پول کھول دیا ہے۔ حکومت کے بڑے بڑے دفاعی دعوے زمینی حقائق کے سامنے بالکل بے معنی اور کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔
مستقبل قریب میں یہ سرحدی کشیدگی بھارت کے لیے مزید سکیورٹی چیلنجز کا باعث بن سکتی ہے۔
اگر مودی حکومت نے اپنی دفاعی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں نہ کیں تو اسے عالمی سطح پر مزید سفارتی اور عسکری تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے اثرات طویل المدتی ہوں گے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت