ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026 · 21 جمادی الاول، 1448 ہجری

سہیل آفریدی کے خلاف اربوں کی کرپشن کے شواہد حاصل کرلیے گئے، گرفتاری کے وارنٹ جاری

قومی خبریں
سہیل آفریدی کے خلاف اربوں کی کرپشن کے شواہد حاصل کرلیے گئے، گرفتاری کے وارنٹ جاری

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف مبینہ مالی بدعنوانی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مختلف سرکاری محکموں سے متعلقہ ریکارڈ طلب کرلیا ہے، جبکہ ان کے خلاف اربوں روپے کی کرپشن کے شواہد ملنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کے خلاف مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے معاملے پر ابتدائی تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق سابق وزیراعلیٰ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہوچکے ہیں، تاہم تاحال ان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

خیبرپختونخوا حکومت کا مؤقف ہے کہ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں اور محفوظ ہاتھوں میں موجود ہیں، جہاں ان کی دیکھ بھال کی جارہی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ان کے خلاف مالی بدعنوانی کے مختلف معاملات میں شواہد سامنے آنے کے بعد متعلقہ اداروں سے مزید معلومات اور دستاویزات حاصل کی جارہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ صوبے کے تمام متعلقہ محکموں سے ریکارڈ طلب کرلیا گیا ہے تاکہ مبینہ بدعنوانی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جاسکیں۔ ابتدائی انکوائری مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے والے معاملات قومی احتساب بیورو اور محکمہ انسداد بدعنوانی کو بھجوائے جائیں گے، جہاں ان کی مزید تحقیقات کی جائیں گی۔

صوبائی حکومت کی جانب سے صحت کارڈ منصوبے میں بھی مبینہ مالی بدعنوانی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق منصوبے سے متعلق مختلف معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے، جبکہ تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے متعلقہ دستاویزات اور سرکاری ریکارڈ جمع کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے مولانا فضل الرحمان کی ناراضی کی وجہ موجودہ ٹیکنوکریٹ حکومتی سیٹ اپ میں حصہ نہ ملنے کو قرار دیا ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ موجودہ حکومتی انتظام میں شمولیت کا موقع نہ ملنے پر ناخوش ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت