’’کائنات میں ہم اکیلے نہیں‘‘:ناسا کے سابق خلانورد کا حیران کن انکشاف

واشنگٹن: ناسا کے سابق خلانورد ونسٹن اسکاٹ نے کائنات میں انسانوں کے علاوہ دیگر ذہین مخلوق کی موجودگی کا مضبوط دعویٰ کیا ہے۔
90ء کی دہائی میں 2 اہم خلائی مشنز کا حصہ رہنے والے اسکاٹ کا کہنا ہے کہ لامتناہی کائنات میں صرف زمین ہی زندگی کا واحد مرکز نہیں ہے۔
انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا کہ کائنات میں موجود اربوں سیارے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ کہیں نہ کہیں زمین جیسے حالات ضرور موجود ہوں گے۔
انہوں نے یقین کے ساتھ کہا کہ اتنی وسیع کائنات میں صرف ہماری زمین پر ذہین زندگی کا ہونا سائنسی طور پر بعید از قیاس ہے۔
تاہم خلانورد نے اس معاملے میں احتیاط برتتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ کائنات میں زندگی کی موجودگی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خلائی مخلوق زمین پر آ چکی ہے۔ انہوں نے زمین پر ایلینز کی آمد سے متعلق کسی بھی قسم کی حتمی تصدیق کرنے سے گریز کیا اور اسے ایک الگ موضوع قرار دیا۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی جانب سے نامعلوم اڑن اشیا کے حوالے سے خفیہ دستاویزات جاری کی گئی ہیں۔ ان رپورٹس میں پراسرار فضائی اشیا کی نگرانی اور دیگر عجیب و غریب واقعات کا تذکرہ موجود ہے جس نے دنیا بھر میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
واضح رہے کہ خلائی مخلوق کی موجودگی کے حوالے سے اب تک کوئی حتمی اور مستند سائنسی ثبوت کسی بھی عالمی ادارے کو نہیں مل سکا۔ ونسٹن اسکاٹ کا یہ بیان ان کے ذاتی تجربات اور مشاہدات کی عکاسی کرتا ہے جسے سائنسی برادری فی الحال ایک مفروضہ ہی سمجھتی ہے۔
کائنات کے اسرار اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن اس طرح کے بیانات ہمیشہ خلائی تحقیق کے شائقین کے لیے دلچسپی کا باعث بنتے ہیں۔
جب تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آتا، تب تک کائنات میں حیات کی تلاش کا سفر اور اس سے جڑے دلچسپ سوالات بدستور برقرار رہیں گے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت