نظریاتی جدوجہد میں کامیابی کی بنیادیں

نیت کے بعد زندگی میں دوسری اہم چیز اخلاص ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی فکر اور عمل کا ہر پہلو اللہ کے لیے خالص ہوجائے۔
زندگی سے مذہب کو نکال دیا جائے تو وہ تجریدی آرٹ کا نمونہ بن کر رہ جاتی ہے۔ یعنی انسان اس سے جو معنی وابستہ کرنا چاہے، کرسکتا ہے۔ مطلب یہ کہ مذہب کے بغیر زندگی معروضی پیمانے سے محروم ہوجاتی ہے اور اس پر موضوعیت یا Subjectivity کا اس حد تک غلبہ ہوجاتا ہے کہ جس کی جو سمجھ میں آتا ہے، کرتا ہے۔ اس صورت میں کامیابی سمیت ہر چیز اضافی یا Relative ہوجاتی ہے۔ لیکن مذہب بالخصوص اسلام زندگی میں نہ غیر ضروری تجرید کو پسند کرتا ہے اور نہ ہی ابہام کو راہ پانے دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسلام کے دائرے میں کامیابی اور ناکامی کا مفہوم اور ان کی بنیادیں واضح ہیں۔
اسلام میں کامیابی کی پہلی بنیاد صحیح نیت ہے۔ قرآن مجید فرقانِ حمید اعلان کرتا ہے کہ انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے، اور کوشش کی بنیاد نیت پر ہوتی ہے۔ حدیث شریف واضح کرتی ہے کہ عمل کا دارو مدار نیت پر ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ زندگی میں نیت کی یہ اہمیت کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمل کی عمارت نیت کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے۔ انسان کی نیت اچھی ہوتی ہے تو عمل بھی اچھا ہوتا ہے۔ نیت خراب ہو تو عمل بھی خراب ہوجاتا ہے۔ نیت میں ابہام ہو تو یہ ابہام عمل میں بھی در آتا ہے۔ نیت کی ایک اہمیت یہ ہے کہ نیت باطنی عمل ہے۔ کسی کی نیت میں اگر کوئی خرابی ہو تو کوئی اس کو نہ جان سکتا ہے نہ اس کو پکڑ سکتا ہے۔ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ بہت سے اچھے کام ماحول کے جبر کے تحت کرتا ہے، لیکن نیت ماحول کے جبر سے آزاد ہوتی ہے، چنانچہ اگر انسان نیت کو خود درست نہ رکھے تو ماحول کا جبر اسے درست نہیں کرسکتا۔
انسان کی نیت اُس کے عمل کو کیسے متاثر کرتی ہے، اس کی کئی مثالیں ہماری ملّی تاریخ میں موجود ہیں۔ سرسید احمد خان ہماری تاریخ کی اہم شخصیت ہیں۔ سرسید کی شخصیت کی بنیادی حقیقت یہ تھی کہ وہ انگریزوں اور اُن کی تہذیب سے بے انتہا مرعوب تھے اور ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو انگریزوں کا وفادار بن کر رہنا چاہیے۔ کہنے کو سرسید نے مسلمانوں کی بہتری کے لیے بڑے بڑے کام کیے۔ انھوں نے مسلمانوں کی اصلاح کے لیے ہزاروں مضامین تحریر کیے، علی گڑھ میں کالج قائم کیا جو آگے چل کر یونیورسٹی بن گیا۔ لیکن سرسید کی نیت اُن کے ہر کام میں در آئی، چنانچہ سرسید کی تحریروں، تعلیمی بندوبست اور ان کی جدوجہد سے ایسے لوگ پیدا ہوئے جو مغرب سے مرعوب تھے اور جنھیں اپنی تہذیب میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی تھی۔
سرسید کے برعکس مثال اقبال کی ہے۔ اقبال انگریزی تعلیم کے پروردہ تھے مگر اسلام کی حقانیت اور اس کی عظمت پر اُن کو کامل یقین تھا، اور وہ حقیقی معنوں میں اسلام کے غلبے اور امتِ مسلمہ کی شوکت کے آرزومند تھے۔ اس لیے انھوں نے ایسی شاعری تخلیق کی جس نے امتِ مسلمہ کی اجتماعی آرزوؤں کو عظیم آرٹ میں ڈھال دیا۔ اقبال کی شاعری پڑھتے ہوئے قاری کو خیال آتا ہے کہ اقبال کی نیت اُن کی تمنا بن کر اُن کے پورے وجود پر اس طرح چھا گئی تھی کہ اُن کی روح، اُن کے دل اور اُن کے دماغ میں اس آرزو کے سوا کسی اور چیز کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں رہ گئی تھی۔
مولانا مودودیؒ نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا تھا اور مولانا برصغیر کے ہزاروں صحافیوں میں سے ایک ہوسکتے تھے۔ لیکن مولانا کی نیت یا آرزو بہت بڑی تھی۔ وہ پوری قوت کے ساتھ دین کا احیاء اور غلبہ چاہتے تھے۔ چنانچہ مولانا کی نیت نے انھیں مفکرِ اسلام اور مجددِ عصر بناکر کھڑا کردیا۔ نیت کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ صحیح نیت انسان کو اللہ تعالیٰ کا مقرب بنادیتی ہے۔
نیت کے بعد زندگی میں دوسری اہم چیز اخلاص ہے۔ اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی فکر اور عمل کا ہر پہلو اللہ کے لیے خالص ہوجائے۔ انسان کی زندگی ترغیبات و تحریصات میں گھری ہے۔ انسان نظریاتی جدوجہد کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور شہرت کی آرزو اسے گھیرلیتی ہے، اور آدمی شہرت کی آرزو کا اسیر ہوجاتا ہے۔ زندگی کے عام دائروں میں شہرت کی آرزو کی تباہ کاریاں عیاں ہوجاتی ہیں لیکن دین کے غلبے کی جدوجہد کرتے ہوئے آدمی کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک شہرت کی اہمیت بنیادی نہیں ہے، اسے خیال آتا ہے کہ شہرت اس کی نیکی کا ”انعام“ ہے۔ شہرت نیکی کا انعام بھی ہوسکتی ہے لیکن اکثر صورتوں میں شہرت نفس کی ترغیب ہوتی ہے، اور یہ ترغیب اس کی نیکی کو کھا جاتی ہے۔ انسان دین کی بالادستی کی جدوجہد کرتا ہے اور عہدے و منصب کی تمنا اس سے چمٹ جاتی ہے۔ انسان کو گمان ہوتا ہے کہ یہ آزمائش نہیں اس کی ”اہلیت“ کا حاصل ہے۔ انسان حق کے فروغ کے لیے کام کرتا ہے اور اِس کام میں اُس کے لیے دولت کمانے کے امکانات پیدا ہوجاتے ہیں۔ انسان ان امکانات کو دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ ایسا ہونا فطری ہے۔ لیکن یہ کوئی فطری چیز نہیں ہوتی۔ اصل بات یہ ہے کہ شہرت، عہدے و منصب اور دولت کی خواہش انسان کے اخلاص کو کھا جاتی ہے۔ اخلاص کی خاص الخاص بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اخلاص کی وجہ سے عمل میں برکت عطا کرتا ہے اور چھوٹا عمل بہت بڑا ہوجاتا ہے۔ تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون کی تحریکیں اس کا ٹھوس ثبوت ہیں۔ ان تحریکوں کی پشت پر ان کے بانیوں کا غیر معمولی اخلاص نہ ہوتا تو یہ تحریکیں وہ نہیں ہوسکتی تھیں جو یہ ہیں۔
اسلام کی تاریخ میں علم کی اہمیت اور فضیلت بنیادی ہے۔ قرآن مجید کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے علم کا سمندر نازل کیا اور اس کے ذریعے اس عہد کے مجموعی عصر کو چیلنج کردیا۔ قرآن مجید کی معجز بیانی کا یہ عالم تھا کہ اس کی سب سے چھوٹی آیت سورہ کوثر کے ذریعے کفار اور مشرکین کے علم اور زبان دانی کو آزما لیا گیا اور زمانہ سورہ کوثر کا جواب دینے سے قاصر رہا۔ قرآن مجید کی ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایمان کے بعد سب سے زیادہ زور علم پر دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں 800 سے زائد مقامات پر علم یا اس کے متعلقات کا ذکر کیا گیا ہے۔ علم کی اہمیت یہ ہے کہ فرشتوں پر انسان کی فضیلت علم کے ذریعے ثابت کی گئی۔ چنانچہ مسلمانوں نے جتنی فتوحات حاصل کی ہیں، ایمان اور علم کی بنیاد پر حاصل کی ہیں۔ مسلمانوں نے علم کی اتنی بڑی روایت پیدا کی ہے کہ دنیا میں مولانا رومؒ جیسا کوئی شاعر اور غزالیؒ جیسا کوئی عالم نہیں گزرا۔ غزالیؒ نے ہماری تاریخ میں وہ کام کیا جو پوری تہذیبوں کی ذمے داری ہوتی ہے۔ انھوں نے تنِ تنہا یونانی فکر کو چیلنج کیا اور اس کا بیج مار کر رکھ دیا۔ عصرِ حاضر میں اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ نے علمی فضیلت کی بنیاد پر ایک نیا جہانِ معنی تخلیق کیا ہے اور مسلمانوں کی نظریاتی جدوجہد کو بلند پروازی عطا کی ہے۔ عالم عرب میں یہ کام حسن البناؒ اور سید قطبؒ شہید نے کامیابی سے کیا ہے۔ لیکن ان کے اثرات عالمِ عرب تک محدود ہیں، جبکہ اقبالؒ اور مولانا مودودیؒ کے اثرات نے پوری امتِ مسلمہ کو متاثر کیا ہے۔ انسانی تاریخ میں علم کی اہمیت یہ ہے کہ علم ذہنوں کو مسخر کرتا ہے۔ لیکن علم سے پہلے ایک اور چیز کی اہمیت بنیادی ہے، اور یہ چیز تقویٰ ہے۔
تقویٰ کو بیان کرنے کی مختلف صورتیں ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے کہ تقویٰ یہ ہے کہ انسان جھاڑیوں کے درمیان سے اس طرح گزر جائے کہ اُس کے لباس کا کوئی حصہ جھاڑیوں میں نہ الجھے۔ ایک اور سطح پر تقویٰ خشیتِ الٰہی کا نام ہے۔ خشیت یہ ہے کہ انسان نیک عمل کرے مگر اُس پر اِس خوف سے ناز نہ کرے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس نیک عمل کو رد نہ کردیں۔ تقویٰ کا ایک مفہوم یہ ہے کہ نیکی انسان کے وجود میں نہ صرف یہ کہ قائم ہوگئی ہے بلکہ اس میں جمال پیدا ہو گیا ہے۔ تقویٰ انبیاء کی میراث ہے۔ تقویٰ خود ایک پیغام ہے، ایک ابلاغ ہے۔ تقویٰ کا اثر انسانی قلب پر ہوتا ہے۔ جس طرح علم ذہنوں کو مسخر کرتا ہے اسی طرح تقویٰ دلوں کو مسخر کرتا ہے۔ نظریاتی جدوجہد کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان مرجع خلائق بن جائے، اور صرف تقویٰ اور علم ہی انسان کو مرجع خلائق بنا سکتے ہیں۔ انبیاء و مرسلین مجسم خیر تھے اور ان کے گرد معاشرے کے بہترین افراد اسی قوت کی وجہ سے جمع ہوئے۔ عام انسانوں کو انبیاء و مرسلین پر نازل ہونے والی وحی کا تجربہ نہیں ہوسکتا تھا لیکن ان کی امانت و صداقت کا مشاہدہ اور تجربہ عام تھا۔ ہمارے بڑے صوفیہ اور علماء نے بھی تقویٰ کی کشش سے کروڑوں انسانوں کو متاثر کیا۔ یہ قوت جتنی مؤثر کل تھی اتنی ہی موثر آج بھی ہے، اور اتنی ہی مؤثر آنے والے کل میں بھی ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانوں میں خیر کی طلب اور پیاس ہمیشہ باقی رہتی ہے، اور جب ایسا نہیں رہے گا تو یہ دنیا باقی نہیں رہے گی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو نظریاتی جدوجہد کرنے والوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے اپنے گھر، خاندان، گلی، محلے اور دفتر میں ان کا تعارف یہ بن جائے کہ ان سے زیادہ نیک آدمی کوئی نہیں۔
نظریاتی جدوجہد میں کامیابی کا ایک تقاضا انسانوں کی خدمت ہے، اور خدمت کا کام اپنے گھر سے شروع ہوتا ہے۔ عزیز و اقارب اور پڑوسی دراصل ہمارے خاندان ہی کی توسیع ہیں، اور مسلمانوں کا تصورِ خاندان یہ ہے کہ ہمارا خاندان ایک چھوٹی امت، اور امت ہمارا بڑا خاندان ہے، یہاں تک کہ پوری انسانیت ہمارے تصورِ خاندان کے دائرے میں آجاتی ہے۔ ہماری تہذیب اور ہماری تاریخ میں سیاست ایک مشکل اور پیچیدہ اصطلاح ہے اور اس کا آسان ترجمہ خدمت کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ ہماری تہذیب میں خدمت کا اصول ”نیکی کر، دریا میں ڈال“ ہے۔ یعنی نیکی کرو اور بھول جاؤ۔ انسان کے اندر جب خدمت کا یہ تصور راسخ ہوجاتا ہے تو تمام سعید روحیں ہی نہیں وہ لوگ بھی خدمت کرنے والے سے محبت کرنے لگتے ہیں جن پر برائی غالب ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بے لوث خدمت کا اثر غیر معمولی ہوتا ہے۔ بے لوث خدمت میں ایک ایسا حسن اور ایک ایسا جمال ہوتا ہے جو وحشیوں تک کو متاثر کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال سلطنتِ روما کی تاریخ کا ایک واقعہ ہے۔ سلطنتِ روما میں باغی کو بھوکے شیر کے آگے ڈال دیا جاتا تھا اور بادشاہ سمیت ہزاروں لوگ اسٹیڈیم میں جمع ہوکر سیاسی باغی اور بھوکے شیر کے ”مقابلے“ سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ ایک بار ایک سیاسی باغی جیل سے فرار ہوکر جنگل میں جا گھسا۔ تھکن سے چُور باغی کو گھنا سایہ میسر آیا تو اس کی آنکھ لگ گئی۔ چند گھنٹوں بعد آنکھ کھلی تو اُس نے اپنے سے کچھ فاصلے پر ایک شیر کو بیٹھا پایا، لیکن وہ شیر قیدی پرحملہ کرنے کے بجائے بیٹھا ہوا تھا اور درد کے مارے کراہ رہا تھا، اور بار بار اپنے ایک پنجے کو چاٹ رہا تھا۔ قیدی سمجھ گیا کہ شیر کے پاؤں میں کانٹا چبھا ہوا ہے۔ قیدی شیر کے قریب گیا اور اُس نے شیر کے پاؤں سے کانٹا نکال دیا۔ شیر کچھ دیر بعد وہاں سے چلا گیا، لیکن اس کے جاتے ہی بادشاہ کے سپاہی وہاں آپہنچے اور قیدی پھر قید کرلیا گیا۔ اِس بار اُس کو سخت پہرے میں رکھا گیا اور اُسے بھوکے شیر کے آگے ڈالنے کی سزا دی گئی۔ اس کام کے لیے ایک دن مقرر کیا گیا۔ مقررہ دن سارا شہر مخصوص اسٹیڈیم میں جمع ہوگیا۔ قیدی کو میدان میں لایا گیا اور تھوڑی دیر بعد اُس پر ایک بھوکا شیر چھوڑ دیا گیا۔ شیر اُس کی طرف تیزی سے بڑھا مگر قریب آکر رک گیا اور قیدی کو دیکھنے لگا۔
چند لمحوں بعد وہ آگے بڑھا اور قیدی کا ہاتھ چاٹنے لگا۔ قیدی پہچان گیا کہ یہ وہی شیر ہے جس کے پاؤں سے اُس نے کانٹا نکالا تھا۔ بادشاہ اور اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں لوگ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ بادشاہ کو حقیقت معلوم ہوئی تو اس نے قیدی کو آزاد کردیا۔ بے لوث خدمت اگر وحشی درندے کو اپنا بنا سکتی ہے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسان اس سے کتنا متاثر ہوسکتے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت