امریکا کا سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر غیر ہنگامی عملے کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم

واشنگٹن (31 اکتوبر 2026ء): امریکا نے سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر سعودی عرب میں تعینات اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ امریکی سفارت خانے کے مطابق یہ حکم 23 اکتوبر سے نافذ العمل ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی سفارت خانے نے جمعے کو جاری کردہ سیکیورٹی انتباہ میں کہا کہ یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہری ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حملوں کے باعث سیکیورٹی خطرات بڑھ گئے ہیں۔
امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مزید میزائل اور ڈرون حملوں، فضائی حدود کی بندش، پروازوں کی منسوخی اور سفری مشکلات کا خدشہ ہے۔ سعودی عرب میں تعینات امریکی سرکاری ملازمین کو اب کسی بھی ہوائی اڈے کے استعمال کے لیے خصوصی اجازت حاصل کرنا ہوگی۔
امریکی سفارت خانے کے مطابق ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کا آپریشن جزوی طور پر بحال کیا گیا ہے، جبکہ جدہ اور دمام کے ہوائی اڈوں پر پروازیں جاری ہیں، تاہم تاخیر اور منسوخی کا سامنا ہوسکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران حملوں اور جوابی کارروائیوں نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی حکام نے سعودی عرب میں موجود اپنے شہریوں کو بھی محتاط رہنے اور سفر سے قبل پروازوں کی صورتِ حال کی تصدیق کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت