ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026 · 21 جمادی الاول، 1448 ہجری

خیبرپختونخوا صحت کارڈ پلس میں ادویات کی مہنگے داموں خریداری کا انکشاف

قومی خبریں

پشاور: خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس پروگرام میں ادویات اور طبی سامان کی مہنگے داموں خریداری کا انکشاف ہوا ہے۔

صحت کارڈ پروگرام سے متعلق آڈٹ رپورٹ کے مطابق سرکاری سطح پر ادویات کی خریداری میں 70 فیصد تک رعایت حاصل کرنے کی گنجائش موجود ہے لیکن صحت کارڈ پلس سے منسلک اسپتالوں میں محض 15 فیصد تک رعایت پر ادویات خریدی گئیں، یوں سرکاری خریداری کے نظام اور صحت کارڈ کے تحت خریداری میں رعایت کا حیران کن فرق سامنے آیا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صحت کارڈ پلس سے منسلک اسپتالوں نے ادویات اور طبی سامان کی خریداری کے لیے مرکزی خریداری نظام کو نظرانداز کیا اور مقامی سپلائرز سے مہنگے داموں خریداری کی۔

رپورٹ کے مطابق صحت کارڈ پلس کے مجموعی طبی اخراجات کا 40 سے 45 فیصد ادویات، طبی آلات اور دیگر طبی سامان پر خرچ ہوتا ہے، الگ الگ خریداری کے طریقہ کار کے باعث سرکاری خزانے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ صحت کارڈ پلس کے تحت ادویات اور طبی سامان کی خریداری کے نظام کو ڈیجیٹل بنایا جائے، خریداری کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے اور مرکزی خریداری نظام کے ذریعے شفافیت اور کم قیمتوں کو یقینی بنایا جائے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت