ہفتہ، 31 اکتوبر، 2026 · 21 جمادی الاول، 1448 ہجری

پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے

قومی خبریں
پوپ لیو امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے

واشنگٹن: کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو نے امریکی ریاست الینوائے کے 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں بذریعہ ڈاک اپنا ووٹ کاسٹ کردیا ہے۔ اس طرح وہ ممکنہ طور پر امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ بن گئے ہیں جبکہ دستیاب معلومات کے مطابق کسی سیکولر جمہوری انتخاب میں ووٹ دینے والے پہلے پوپ ہونے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہو سکتا ہے۔

امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ویٹیکن نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ امریکی شہریت رکھنے والے پوپ لیو نے الینوائے کے وسط مدتی انتخابات کے لیے اپنا میل اِن بیلٹ شکاگو میں جمع کرا دیا ہے۔

ہولی سی پریس آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پوپ لیو شہریوں کے جمہوری عمل میں حصہ لینے کے حق اور فرض پر پختہ یقین رکھتے ہیں، پوپ نے شکاگو میں بذریعہ ڈاک اپنا ووٹ جمع کرایا، جس کے بعد ان کی انتخابی عمل میں شرکت کی تصدیق ہوگئی۔

پوپ لیو کی جانب سے امریکی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا واقعہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ دنیا بھر کے کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا ہیں اور ویٹیکن میں مقیم ہیں، امریکی شہریت کے باعث انہیں اپنے آبائی ملک کے انتخابی عمل میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔

رپورٹ کے مطابق پوپ لیو ممکنہ طور پر کسی سیکولر جمہوری انتخاب میں ووٹ ڈالنے والے پہلے پوپ ہیں۔ ان کی جانب سے ووٹ ڈالنے کے فیصلے کو شہری ذمہ داری اور جمہوری عمل میں شرکت کے حوالے سے ان کے مؤقف کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پوپ لیو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایران میں جنگ اور امریکا میں تارکین وطن کے ساتھ حکومتی سلوک سمیت متعدد معاملات پر اختلافات سامنے آ چکے ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ بھی ان کے بعض امور پر اختلافات رہے ہیں۔

پوپ لیو نے مختلف مواقع پر جنگ اور انسانی حقوق سے متعلق معاملات پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں پر بھی ان کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔ ایسے میں امریکی انتخابات میں ان کی شرکت کو خاص توجہ حاصل ہوئی ہے،پوپ کا ووٹ ڈالنا شہریوں کے جمہوری حقوق اور ذمہ داریوں پر ان کے یقین کا اظہار ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت