نہرِ خیام پر متنازع تعمیرات کے خلاف جماعت اسلامی سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئی

کراچی: جماعت اسلامی نے کراچی میں نہرِ خیام پر جاری متنازع تعمیرات کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ نہر پر ہونے والی غیر قانونی تعمیرات فوری طور پر روکنے کا حکم دیا جائے۔
اس سلسلے میں جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر اور کے ایم سی میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ درخواست میں نہرِ خیام کی اصل حیثیت اور ساخت برقرار رکھنے کے ساتھ متنازع تعمیراتی سرگرمیاں روکنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست دائر کرنے کے بعد امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے سیف الدین ایڈووکیٹ کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں سرکاری زمینوں، پارکس اور کھیل کے میدانوں پر قبضوں کا سلسلہ تشویش ناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایم کیو ایم کی چائنا کٹنگ ون کے بعد اب پیپلز پارٹی چائنا کٹنگ ٹو کے ذریعے شہر کے اہم علاقوں، بالخصوص کلفٹن کو نشانہ بنا رہی ہے۔ کلفٹن کے متعدد پارکس مختلف اداروں اور نجی فریقوں کے حوالے کرکے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے خوش نما نام پر تجارتی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نہرِ خیام بھی اسی چائنا کٹنگ ٹو کی زد میں ہے، جسے اس کی اصل حالت سے محروم کرکے محدود نالوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جماعت اسلامی اس عمل کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ نہرِ خیام کی بحالی اور متنازع تعمیرات کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا ہے جبکہ سٹی کونسل میں بھی اس حوالے سے خط لکھا گیا ہے اور آئندہ اجلاس میں یہ معاملہ دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ جماعت اسلامی کلفٹن کے رہائشیوں کے احتجاج میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ سندھ حکومت اور کے ایم سی کو نہرِ خیام اس کی اصل حالت میں بحال کرنا ہوگی۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ کلفٹن کا کوئی پارک محفوظ نہیں رہا۔ پارکس کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور وہاں پیڈل کورٹس قائم کرکے شہریوں سے ہزاروں روپے وصول کیے جا رہے ہیں حالانکہ سندھ ہائی کورٹ پہلے ہی پارکس کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر پابندی عائد کر چکی ہے۔ اس کے باوجود پارکس اور کھیل کے میدانوں میں تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نہرِ خیام پانی کی ایک قدرتی گزرگاہ ہے، جو قیامِ پاکستان سے پہلے سے موجود ہے اور گزری و کلفٹن کے علاقوں میں برساتی پانی کی نکاسی کے نظام کا اہم حصہ ہے۔ 1980ء کے ماسٹر پلان کے مطابق اس نہر کی چوڑائی 180 فٹ تھی، مختلف تعمیرات اور تجاوزات کے باعث یہ سکڑ کر تقریباً 100 فٹ رہ گئی ہے۔ ماضی میں بھی نہر پر قبضے اور پلاٹنگ کی کوششیں کی گئیں، جن کے خلاف علاقے کے رہائشیوں نے عدالتوں سے رجوع کیا تھا اور عدالتی کارروائی کے نتیجے میں یہ سلسلہ رک گیا تھا لیکن اب ایک مرتبہ پھر نہر کو محدود کرکے اس کی زمین دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ موجودہ منصوبے کے تحت پوری نہر کو سمیٹ کر 3 چھوٹے نالوں میں تبدیل کرنے کی بات کی جا رہی ہے جبکہ سیوریج کے لیے الگ نالہ بھی تعمیر کیا گیا ہے، جسے اوپر سے سلیب ڈال کر بند کر دیا گیا ہے۔ اس سے نالے کی صفائی اور دیکھ بھال میں مشکلات پیدا ہوں گی۔
حکومت اس منصوبے کو تفریحی سرگرمیوں اور اسٹالز کے قیام کا منصوبہ قرار دے رہی ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے 15 فٹ سے زیادہ اونچی تعمیرات نہ کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ نہر کے اندر کس نوعیت کی تعمیرات کی جائیں گی اور ان کا اصل مقصد کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ نہرِ خیام پر کنکریٹ کی دیواریں تعمیر کرنے اور چھت ڈالنے کے منصوبے پر نہ تو سٹی کونسل میں بحث کی گئی اور نہ ہی اس کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی گئی ہیں،منصوبے کا پی سی ون کہاں ہے، اس کے مقاصد کیا ہیں، کل رقبہ اور حدود کتنی ہیں، کن ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دیے گئے ہیں اور اس پر مجموعی طور پر کتنی لاگت آئے گی۔ منصوبے کی تمام تفصیلات کلفٹن کے رہائشیوں اور عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔
منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ کسی بھی ترقیاتی منصوبے پر کام شروع کرنے سے پہلے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے، کیا اس منصوبے کے لیے سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) سے اجازت حاصل کی گئی اور ماحولیاتی جانچ مکمل کرائی گئی؟ کلفٹن کے رہائشی گزشتہ ڈیڑھ سے 2 ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن جب معاملہ شدت اختیار کر گیا اور شہریوں نے عدالت سے رجوع کیا تو کے ایم سی کی جانب سے ماحولیاتی جانچ کے لیے خط لکھا گیا حالانکہ اس وقت تک منصوبے پر خاصا کام ہو چکا تھا۔ یہ صورتِ حال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
انہوں نے 2006ء کی بارشوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران کلفٹن کا بڑا حصہ زیرِ آب آگیا تھا، جس کی ایک اہم وجہ نہرِ خیام میں برساتی پانی لانے والے راستوں اور نالوں کی بندش تھی۔ یہ نہر پورے علاقے کے قدرتی نکاسی آب کے نظام کا حصہ ہے۔ اگر اسے محدود کرکے 25 یا 27 فٹ کے نالے میں تبدیل کر دیا گیا تو باقی زمین کے استعمال کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہوں گے۔ حکومت نکاسی آب کا کوئی متبادل نظام بنانا چاہتی ہے تو یہ اس کی ذمہ داری ہے لیکن قدرتی آبی گزرگاہ کو ختم کرنا اور اس میں سیوریج کا پانی شامل کرکے اس کی صفائی کے لیے مناسب انتظام نہ کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
اس موقع پر سیف الدین ایڈووکیٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں سرکاری زمینوں اور پارکس پر قبضوں کا سلسلہ تشویش ناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ ماضی میں شہر کے دور دراز علاقوں میں قبضوں کی شکایات سامنے آتی تھیں لیکن اب یہ سلسلہ شہر کے مرکزی علاقوں، بالخصوص کلفٹن تک پہنچ گیا ہے۔ کلفٹن کے متعدد پارکس پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نام پر نجی اداروں کے حوالے کرکے تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نہرِ خیام بھی قبضے کی کوششوں کا نشانہ ہے۔ سیوریج کے نالے کو سلیب ڈال کر بند کر دیا گیا ہے، جس سے صفائی کے مسائل کے علاوہ گیس جمع ہونے کے باعث ممکنہ حادثات کے خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ حکومت نہرِ خیام کو تفریحی سرگرمیوں اور اسٹالز کے قیام کے لیے استعمال کرنے کی بات کر رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ ایک قدرتی آبی گزرگاہ پر اس نوعیت کی تعمیرات کی اجازت کس قانون کے تحت دی جا سکتی ہے؟ یہ رفاہی زمین ہے اور اسے کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
اس موقع پر درخواست گزاروں میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے ایم سی تیمور احمد، سیکریٹری پبلک ایڈ کمیٹی نجیب ایوبی اور سعد لیاقت کے علاوہ سول سوسائٹی سے وابستہ افراد بھی موجود تھے۔ ہائی کورٹ میں میڈیا بریفنگ کے موقع پر شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور نہرِ خیام پر متنازع تعمیرات کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ احتجاج میں راشا طارق اور ہما احمد بھی شریک تھیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت