جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

شمالی کوریا کی ڈرون ٹیکنالوجی کی نمائش، کم جونگ ان کا دفاعی صلاحیتوں میں برتری حاصل کرنے پر زور

قومی خبریں

پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی نمائش کا انعقاد کیا گیا، جس میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے شرکت کی۔ نمائش میں جدید فوجی ڈرونز، خودکار ہتھیاروں اور میزائل ٹیکنالوجی کی تازہ پیش رفت پیش کی گئی جبکہ مختلف ہتھیاروں کے عملی مظاہرے بھی کیے گئے۔

شمالی کوریا کی میڈیا رپورٹس کے مطابق نمائش کا مقصد ملک کی دفاعی صلاحیتوں اور مسلح افواج کی تکنیکی طاقت کو اجاگر کرنا تھا۔ اس موقع پر ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت اور مستقبل کے دفاعی منصوبوں کی تفصیلات پیش کی گئیں۔

نمائش میں مختلف اقسام کے اسٹریٹجک، آپریشنل اور کثیرالمقاصد ڈرونز کے علاوہ خودکش حملہ آور ڈرونز بھی رکھے گئے تھے، جنہیں جدید جنگی تقاضوں کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔

اس موقع پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید جنگوں کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر ڈرون ٹیکنالوجی میں مکمل برتری حاصل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، دفاعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ملکی سلامتی اور فوجی طاقت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

کم جونگ ان کا کہنا تھا کہ طاقت ہی امن کی ضمانت ہے اور امن صرف طاقت کے ذریعے برقرار رکھا جا سکتا ہے، وہ ڈرون ٹیکنالوجی اور قومی دفاع کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیز رفتار ترقی کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔

نمائش کے دوران جدید ہتھیاروں کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا، جس میں مختلف اقسام کے ٹیکٹیکل خودکش ڈرونز نے اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ کثیرالمقاصد ڈرونز سے فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغنے اور ٹیکٹیکل کروز میزائلوں کے ذریعے اہداف کو نشانہ بنانے کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔

نمائش کا ایک اہم پہلو 600 ملی میٹر کیلیبر کے انتہائی درست نشانہ لگانے والے کثیرالراکٹ لانچر کا پہلی مرتبہ عوامی سطح پر عملی مظاہرہ تھا، جسے ’’اسنائپر‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے فائرنگ کا مظاہرہ کرکے اس کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا۔

شمالی کوریا کی اس نمائش کو ملک کی دفاعی صنعت میں ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور جدید میزائل نظام کی اہمیت بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ کم جونگ ان کی جانب سے سائنس دانوں کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری تیز کرنے کی ہدایت بھی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ شمالی کوریا اپنی فوجی صلاحیتوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت