امریکی حکومت ایران کے خلاف طویل فوجی مداخلت کی حامی نہیں ہے، جے ڈی وینس
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کو کسی بھی صورت ایک طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگ میں تبدیل ہونے کی اجازت نہیں دے گی اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ رکھتی ہے۔
ٹیکساس میں ایک عوامی پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مداخلتوں کے حوالے سے عوام کی تشویش کو مکمل طور پر سمجھتے ہیں کیونکہ وہ خود بھی عراق میں فوجی خدمات انجام دے چکے ہیں اور جنگ کے نقصانات سے بخوبی آگاہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکی تنازع کو دہائیاں گزر چکی ہیں اور گزشتہ 7 ماہ سے واشنگٹن کسی نہ کسی صورت میں اس معاملے میں مصروف عمل رہا ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عزم ہے کہ امریکا کو ایسی کسی بھی طویل المدتی جنگ میں نہیں الجھایا جائے گا۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ طویل فوجی مہمات کی مخالفت کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کا آپشن مکمل طور پر ختم کر دے، بلکہ قومی سلامتی کے مقاصد کے حصول کے لیے طاقت کا درست استعمال ضروری ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ صدر ٹرمپ کا بنیادی ہدف امریکا کے طے شدہ تزویراتی مقاصد کو جلد از جلد حاصل کرنا ہے تاکہ انتظامیہ اپنی دیگر اہم ملکی ترجیحات اور داخلی مسائل پر توجہ مرکوز کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا غیر ضروری اور طویل تنازعات میں پھنس کر اپنی توانائیاں ضائع نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور وہاں امریکی فوجی کردار پر خود امریکا کے اندر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جے ڈی وینس کا یہ مؤقف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے خارجہ پالیسی میں توازن لانے کی ایک واضح کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت