منفرد ملازمت کی پیشکش: روبوٹک کتوں کو سیر کرانے کے عوض 20 ڈالر فی گھنٹہ
سان فرانسسکو: امریکی کمپنی نے روبوٹ کتوں کو عوامی مقامات پر سیر کرانے کے لیے ایک انوکھی اور دلچسپ ملازمت کی پیشکش کر دی ہے جس میں کام کرنے والے افراد کو فی گھنٹہ 20 ڈالر تک معاوضہ دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ کام خاص طور پر ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کے لیے ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ملازمت کے لیے منتخب ہونے والے افراد کو روزانہ 4 سے 6 گھنٹے تک مصنوعی ذہانت سے لیس ان جدید روبوٹ کتوں کو باہر گھمانا ہوگا۔
یہ عمل کمپنی کے مخصوص ٹیکنالوجی ٹیسٹ کے مراحل کا ایک اہم حصہ قرار دیا گیا ہے۔
امیدواروں کو نہ صرف ان روبوٹس کی حفاظت کرنا ہوگی بلکہ انہیں عوامی مقامات پر چہل قدمی کرانے کے بعد بحفاظت مقررہ مقام پر واپس پہنچانا بھی ہوگا۔ اس کام کے دوران ملازمین کو تقریباً 15 کلو گرام وزنی آلات اور مشینری کو اپنے ساتھ سنبھال کر چلنا لازمی ہوگا۔
کمپنی کے بانی سٹیش پومیچر نے کہا کہ ہم روبوٹس کے لیے ایسا جدید اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم تیار کر رہے ہیں جو ان سے جسمانی مشقت والے کام لینے میں مدد دے گا۔ اس مقصد کے لیے کمپنی نے چین سے 2 ہزار ڈالر فی یونٹ کی قیمت پر کئی روبوٹ کتے خریدے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس ایجنٹ فی الحال ہارڈ ویئر کو کنٹرول کرنے میں انسانوں کے مقابلے میں کم مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
اسی لیے روبوٹس کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے اب ہمیں انسانی مدد اور نگرانی کی فوری ضرورت ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے تجربات مستقبل میں روبوٹس کو عام زندگی کا حصہ بنانے میں مدد دیں گے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر اسے ایک عجیب کام سمجھا جا رہا ہے مگر روبوٹکس کے شعبے میں ہونے والی یہ پیش رفت آنے والے برسوں میں دنیا کو بدل کر رکھ دے گی۔
اس دلچسپ ملازمت کے لیے درخواستیں دینے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور کمپنی کو توقع ہے کہ بڑی تعداد میں نوجوان اس منفرد تجربے کا حصہ بنیں گے۔ یہ منصوبہ جہاں ایک جانب نوکری کے مواقع پیدا کر رہا ہے وہیں آرٹی فیشل انٹیلی جنس کی خامیوں کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
بشکریہ روزنامہ جسارت