خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری عدم تحفظ کا ذمہ دار امریکا ہے، ایران
تہران: ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری عدم تحفظ کی بنیادی وجہ واشنگٹن کی پالیسیاں اور اقدامات ہیں۔
ایرانی نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے نمائندے نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جاری فوجی جارحیت نے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے جبکہ امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث سمندری سلامتی کی صورت حال مزید خراب ہو رہی ہے۔
ایرانی نمائندے کا کہنا تھا کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری عدم تحفظ کے اسباب کا جائزہ لیتے وقت امریکا کے اقدامات اور پالیسیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، واشنگٹن کی جانب سے اختیار کردہ جارحانہ طرزِ عمل ہی خطے میں کشیدگی اور عدم تحفظ کی بنیادی وجہ ہے۔
ایرانی نمائندے نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں خطے کی سلامتی متاثر ہوئی ہے اور اس کے اثرات سمندری راستوں اور تجارتی سرگرمیوں تک پہنچ رہے ہیں، امریکی بحری ناکہ بندی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کے حوالے سے خدشات پیدا کیے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ خطے میں بحری سلامتی کے مسائل کا حقیقی جائزہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ امریکی اقدامات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کو بنیادی اہمیت دی جائے۔
ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ذمہ داری امریکا کی پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے، خطے میں پائیدار امن اور سمندری سلامتی کے قیام کے لیے فوجی جارحیت اور ناکہ بندی جیسے اقدامات کا خاتمہ ضروری ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت