جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

کراچی میں قوانین کی دھجیاں، شہر پر مافیاؤں کا راج، انتظامیہ خاموش تماشائی

قومی خبریں
کراچی میں قوانین کی دھجیاں، شہر پر مافیاؤں کا راج، انتظامیہ خاموش تماشائی

کراچی: شہرِ قائد میں شہریوں کی سہولت اور ماحولیاتی بہتری کے لیے بنائے گئے قوانین عملی طور پر بے اثر ہو چکے ہیں۔

پلاسٹک بیگز کے استعمال، کچرا جلانے اور تجاوزات کے خلاف وضع کردہ ضابطے صرف سرکاری فائلوں اور ریکارڈ تک محدود رہ گئے ہیں، جس سے شہر کے حالات مسلسل ابتر ہو رہے ہیں۔

سندھ حکومت نے 15 جون 2025 سے پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی عائد کی تھی اور میئر کراچی نے بھی اس پر سخت ایکشن کا اعلان کیا تھا۔ ابتدا میں 12 ٹن سے زائد ممنوع سامان ضبط کرنے اور دکانیں سیل کرنے کی کارروائیاں کی گئیں، مگر اب یہ مہم سرد خانے کی نذر ہو چکی ہے۔

شہر میں کچرا جلانا بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس سے اٹھنے والا زہریلا دھواں شہریوں کے لیے سانس لینا محال کر دیتا ہے۔ گلستانِ جوہر کے مختلف بلاکس میں تو یہ معمول کی بات ہے، جہاں کچرا اٹھانے والے عملے کے اہلکار ہی کچرے کو نذرِ آتش کر دیتے ہیں تاکہ صفائی کے جھنجھٹ سے بچا جا سکے۔

غیر قانونی پارکنگ اور تجاوزات نے بھی کراچی کے فٹ پاتھوں اور سڑکوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ میئر کراچی کی جانب سے اہم شاہراہوں کو پارکنگ فری قرار دیے جانے کے باوجود پرائیویٹ ٹھیکیداروں کا راج قائم ہے۔ انتظامیہ کے وقتی کریک ڈاؤنز کے باوجود تجاوزات دوبارہ اسی مقام پر سج جاتی ہیں، جس سے حکومتی رٹ پر سوال اٹھتے ہیں۔

انتظامی ناکامیوں کی بڑی وجہ سیاسی پشت پناہی اور مافیاز کا اثر و رسوخ ہے۔

ماہرین کے مطابق کوئی بھی مافیا حکومت سے زیادہ طاقتور نہیں ہو سکتی، بشرطیکہ ذمہ داران سنجیدگی دکھائیں۔ شہر کی بہتری کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں، بلکہ ان پر میرٹ اور دیانت داری کے ساتھ مستقل عملدرآمد کروانا اشد ضروری ہے۔

بہتری کے لیے انتظامی بوجھ کو مناسب سطح پر تقسیم کرنا ہوگا اور ایسے افسران کو تعینات کرنا ہوگا جو شہر کی گلی گلی سے واقف ہوں۔ صرف حکمرانوں کی کوشش کافی نہیں بلکہ شہریوں کو بھی اپنی سماجی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی، کیونکہ شہر سے محبت کا اظہار اقتدار کے بغیر بھی ممکن ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت