جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

انڈونیشیا: جنگلات میں آتشزدگی سے پیدا دھویں نے ہزاروں زندگیاں نگل لیں

قومی خبریں
انڈونیشیا: جنگلات میں آتشزدگی سے پیدا دھویں نے ہزاروں زندگیاں نگل لیں

جکارتا: انڈونیشیا میں جنگلات اور زرعی زمینوں میں لگنے والی آگ سے پیدا ہونے والی زہریلی فضائی آلودگی کے باعث ستمبر 2026 کے دوران 3560 افراد لقمہ اجل بن گئے۔

یہ تشویشناک اعداد و شمار ہیلسنکی کے ایک تحقیقی ادارے نے اپنی حالیہ رپورٹ میں جاری کیے ہیں۔

تحقیقی ادارے سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر کی رپورٹ کے مطابق اگست کے مقابلے میں ستمبر کے دوران اموات کی تعداد میں دوگنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جنگلاتی آگ کا یہ دھواں انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ثابت ہوا ہے اور ہزاروں خاندانوں کو متاثر کیا ہے۔

تقریباً 5 کروڑ 78 لاکھ افراد کو ستمبر کے مہینے میں غیر صحت بخش اور انتہائی خطرناک فضائی آلودگی کا سامنا کرنا پڑا۔ انڈونیشیا کے علاقے کلیمانتان اور سماٹرا میں لگی آگ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا، جس سے مقامی آبادی کا سانس لینا تک دشوار ہو گیا تھا۔

تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ ہوا میں موجود باریک زہریلے ذرات پی ایم 2.5 کی قلیل مدتی نمائش نے اموات کی شرح میں نمایاں اضافہ کیا۔ کلیمانتان کے چار صوبوں میں 1470 جبکہ سماٹرا کے پانچ صوبوں میں 1420 افراد کا انتقال براہِ راست آگ کے دھوئیں کی وجہ سے ہوا۔

عالمی ادارہ صحت کی مقرر کردہ سالانہ حد کے مقابلے میں انڈونیشیا میں پی ایم 2.5 کی سطح سات گنا سے زیادہ رہی۔ قومی سطح پر یہ اوسط 36 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ کلیمانتان میں یہ خطرناک حد 120 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک جا پہنچی تھی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ستمبر میں مجموعی طور پر 5310 اموات فضائی آلودگی سے ہوئیں، جن میں سے 1750 اموات کا تعلق گاڑیوں اور صنعتی دھویں سے تھا۔ یوں ثابت ہوتا ہے کہ جنگلاتی آگ سے اٹھنے والا دھواں آلودگی سے ہونے والی اموات کا سب سے بڑا محرک بن چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگلات میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے انسانی بحران پیدا ہوتے رہیں گے۔ حکومتی سطح پر جنگلات کے تحفظ اور آتشزدگی کی روک تھام کے لیے ٹھوس پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے۔

بشکریہ روزنامہ جسارت