جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

کھربوں کا بجٹ غائب؟ سرکاری اسپتالوں میں بستروں کی شدید قلت کا انکشاف

قومی خبریں
کھربوں کا بجٹ غائب؟ سرکاری اسپتالوں میں بستروں کی شدید قلت کا انکشاف

ملک بھر میں صحت کے شعبے کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کے باوجود سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے لیے بستروں کی گنجائش انتہائی کم ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی معیار کے مطابق ہر ایک ہزار کی آبادی کے لیے 3 سے 5 بستر ضروری ہیں، مگر پاکستان میں یہ شرح ایک سے بھی کم ہے۔

ملک بھر میں 1279 سے زائد بڑے سرکاری اسپتال کام کر رہے ہیں، لیکن آبادی کے تناسب سے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پورے ملک میں اوسطاً ایک ہزار افراد کے لیے محض آدھا بستر ہی دستیاب ہے۔ صحت کی ایسی ناقص صورتحال حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھا رہی ہے۔

صوبائی سطح پر صورتحال کا جائزہ لیں تو پنجاب کے 388 اسپتالوں میں 60 ہزار سے زائد بستر ہیں، جہاں 1800 افراد پر ایک بستر آتا ہے۔ سندھ میں 473 اسپتالوں کے باوجود 1400 افراد اور خیبر پختونخوا میں 1600 افراد پر ایک بستر دستیاب ہے۔

بلوچستان میں 132 اسپتالوں میں 1700 افراد کے لیے صرف ایک بستر کی سہولت موجود ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد کی صورتحال قدرے بہتر ہے جہاں 900 افراد پر ایک بستر میسر ہے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ موجودہ سہولیات عوامی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔

حکومتی بجٹ کی بات کریں تو پنجاب کے لیے 500 ارب، سندھ کے لیے 500 ارب، خیبر پختونخوا کے لیے 334 ارب اور بلوچستان کے لیے 96 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا نے صحت کارڈ کے لیے بھی الگ سے 50 ارب روپے رکھے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھاری فنڈز کے باوجود اسپتالوں میں بستروں کی تعداد نہ بڑھنا وسائل کے درست استعمال پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔ پاکستان کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ہسپتالوں اور بستروں کی تعداد میں کم از کم 5 گنا اضافہ کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

اگر فوری طور پر عملی اقدامات نہ کیے گئے تو سرکاری اسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ صحت کے بجٹ کا بڑا حصہ بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خرچ کرے تاکہ غریب عوام کو علاج کی بہتر اور بروقت سہولیات میسر آ سکیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت