جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

اسرائیلی انتخابات کے نتائج جاری؛ نیتن یاہو اور اپوزیشن دونوں اکثریت سے محروم

قومی خبریں
اسرائیلی انتخابات کے نتائج جاری؛ نیتن یاہو اور اپوزیشن دونوں اکثریت سے محروم

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیشن نے جمعے کی علی الصبح پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان کردیا۔

انتخابی نتائج کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا سیاسی اتحاد سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے باوجود حکومت بنانے کے لیے درکار سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکا۔

سرکاری نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد نے 120 رکنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ سابق آرمی چیف گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد 48 نشستیں جیت سکا۔

عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کرکے پارلیمانی تاریخ میں اپنی اب تک کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

جماعتوں کی انفرادی نشستوں کے نتائج کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 27 نشستوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی، جبکہ آئزن کوٹ کی یاشر پارٹی نے 21 نشستیں حاصل کیں۔

بینیٹ کی باہم جماعت نے 12، مشترکہ عرب فہرست نے 11، ڈیموکریٹس اور متحدہ عرب فہرست (رعام) نے 8، جبکہ اسرائیل بیتینو، متحدہ توراتی یہودیت اور عوتسما یہودیت نے 7، شاس اور مذہبی صیہونیت نے 6، 6 نشستیں حاصل کیں۔

حتمی نتائج کے مطابق کسی بھی سیاسی اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستیں نہیں مل سکیں۔

اس صورتحال میں عرب جماعتیں حکومت سازی کے مذاکرات میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں، تاہم اپوزیشن کے بعض رہنماؤں کی جانب سے ان جماعتوں کے ساتھ تعاون پر تحفظات موجود ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اور آئزن کوٹ دونوں نے حکومت بنانے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔ ایک ممکنہ راستہ وسیع قومی اتحادی حکومت کا قیام بھی ہے، تاہم سیاسی اختلافات کے باعث مذاکرات پیچیدہ رہنے کا امکان ہے۔

الیکشن کمیشن حتمی نتائج 4 نومبر کو صدر اسحاق ہرزوگ کے حوالے کرے گا، جبکہ نومنتخب پارلیمنٹ کے ارکان 10 نومبر کو حلف اٹھائیں گے۔

انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ تقریباً 77.9 فیصد رہا، جو کئی دہائیوں کی بلند ترین شرحوں میں شمار ہوتا ہے۔

مبصرین کے مطابق حکومت سازی میں ناکامی کی صورت میں اسرائیل کو ایک بار پھر نئے انتخابات کی طرف جانا پڑ سکتا ہے، جبکہ صدر اسحاق ہرزوگ نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ نئے انتخابات سے بچنے کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت