مطالبات تسلیم ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی: ایران کا دوٹوک اعلان

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا ہے کہ جب تک امریکا ایران کی جانب سے عائد کردہ تمام شرائط کو تسلیم نہیں کر لیتا، تب تک عالمی تجارت کے لیے اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند رکھا جائے گا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے وضاحت کی کہ یہ اہم سمندری راستہ اس وقت ایرانی مسلح افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا حتمی موقف یہی ہے کہ جب تک مطالبات کی تکمیل نہیں ہوتی، تب تک اس گزرگاہ کو کھولنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
حسین محبی نے الزام عائد کیا کہ دشمن نے ایران کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنے کی مذموم کوششیں کی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کا اصل خفیہ ہدف دراصل اسرائیل کے توسیع پسندانہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا ہے، جس کے لیے وہ خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔
ثالثوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امن منصوبے کے نکات موصول ہو چکے ہیں، تاہم ابھی ایران کی جانب سے کوئی حتمی جواب نہیں دیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ تہران اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور شرائط کے بغیر آبنائے ہرمز کی بحالی ممکن نہیں ہوگی۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز تیل و گیس کی عالمی تجارت اور ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم اور حساس گزرگاہ تصور کی جاتی ہے۔ جنگی حالات سے قبل دنیا بھر میں استعمال ہونے والے کل تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا تقریباً پانچواں حصہ اسی اہم سمندری راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتا تھا۔
مذکورہ صورتحال خطے میں جاری کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایران اپنی جوہری اور عسکری صلاحیتوں کے تحفظ کو قومی بقا کا مسئلہ سمجھتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈیوں میں توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جو بالواسطہ طور پر امریکا اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی دکھائی دیتی ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت