اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد سیاسی کشیدگی ، الزامات کا سلسلہ عروج پر

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیل میں حالیہ عام انتخابات کے نتائج نے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے جس کے بعد حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے انتخابی نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے عرب جماعتوں کی کامیابی کو مشکوک قرار دیا ہے۔
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی عرب سیاسی اتحادوں نے انتخابی عمل میں غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کیے اور ووٹ خریدنے کے ساتھ ساتھ بیرونی مداخلت کی بھی کوشش کی۔
اس سنگین الزام کے بعد اسرائیلی داخلی سیکیورٹی ادارے شن بیت نے معاملے کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب قطر نے ان الزامات کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی سیاست دان دوحہ کے خلاف ایک گمراہ کن مہم چلا رہے ہیں۔ عرب جماعتوں نے بھی ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور نسل پرستانہ قرار دیا ہے۔
انتخابی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کا اتحاد 53 نشستیں حاصل کر سکا جبکہ ان کے مدمقابل گادی آئزن کوٹ کا اتحاد 48 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہا۔
تاہم دو عرب سیاسی اتحادوں نے توقعات کے برعکس 19 نشستیں جیت کر پارلیمان میں اپنی ایک مضبوط اور فیصلہ کن حیثیت بنا لی ہے۔
حکومت سازی کے لیے کسی بھی بڑے اتحاد کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہے، جس کے باعث عرب جماعتیں اب کنگ میکر کے کردار میں آ چکی ہیں۔
گادی آئزن کوٹ نے کہا کہ نیتن یاہو جان بوجھ کر عوامی مینڈیٹ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی منظم کوشش کر رہے ہیں۔
مرکزی انتخابی کمیٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل ڈین لیونے نے تصدیق کی ہے کہ انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی منظم بے ضابطگی کے ٹھوس شواہد موجود نہیں ہیں۔
شن بیت نے بھی واضح کیا کہ ان کی تحقیقات کا مقصد عام ووٹرز یا عرب برادری پر کوئی الزام عائد کرنا ہرگز نہیں ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت