جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

صیہونی سازشیں کیخلاف عالمِ اسلام کو متحد ہونا ہوگا، حافظ نعیم کا استنبول میں عالمی کانفرنس سے خطاب

قومی خبریں
صیہونی سازشیں کیخلاف عالمِ اسلام کو متحد ہونا ہوگا، حافظ نعیم کا استنبول میں عالمی کانفرنس سے خطاب

استنبول: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ صیہونی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے عالمِ اسلام کو متحد ہونا ہوگا۔

ترکی کے شہر استنبول میں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ امت کو انتہاپسندی، تکفیر اور فرقہ واریت جیسی لعنتوں سے محفوظ رکھنے کے لیے علماء کو ایک مشترکہ اور عملی لائحہ عمل مرتب کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات پر قرآن و سنت کی روشنی میں واضح پالیسی اپنانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ صیہونیت مسلم دنیا کے باہمی اختلافات سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی مسلسل سازشوں میں مصروف عمل ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ دشمن کی ان مذموم سازشوں کو ناکام بنانا پوری امت کا اجتماعی فریضہ ہے۔ اسلامی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا خاتمہ صرف باہمی تعاون، مشترکہ مفادات کے تحفظ اور مستحکم یکجہتی کے ذریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا ہے اور یہ سب ممکن ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مسلم اسکالرز کی یہ بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام اور حکمرانوں کو مشکلات سے نکالنے کے لیے ٹھوس حکمت عملی فراہم کریں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان میں ملی یکجہتی کونسل کا 70 نکاتی ضابطہ اخلاق اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ باہمی مکالمے سے بڑے اختلافات حل ہوسکتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مسلم ممالک کو اپنے وسائل تعلیم، انصاف، معاشی خوشحالی اور ٹیکنالوجی پر خرچ کرنے چاہییں۔

انہوں نے کہا کہ 2 ارب مسلمانوں کی آبادی میں ایک ارب خواتین شامل ہیں، جن کے مسائل کا حل عصری تقاضوں کے مطابق تلاش کرنا ہوگا۔ ملازمت پیشہ خواتین کو موجودہ حالات میں گھروں تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے جدید تقاضوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کرپٹو کرنسی سمیت جدید مالیاتی معاملات پر قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی ضروری ہے۔ جنریشن زی کی نفسیات کو سمجھے بغیر فیصلے کیے گئے تو پوری نسل ہاتھ سے نکل جائے گی۔ نوجوانوں کے سوالات کے جوابات روایتی طریقے کے بجائے نئی حکمت عملی سے دینا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان سمیت دنیا بھر میں آباد مسلم اقلیتوں کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے عالمی سطح پر کام کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ استنبول میں منعقدہ اس کانفرنس میں ترکی، سوڈان، اردن اور لیبیا سمیت مختلف ممالک کے 200 سے زائد اسکالرز نے شرکت کی، جنہوں نے ان چیلنجز پر غور کے لیے ذیلی کمیٹیاں بنانے پر اتفاق کیا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت