جمعہ، 30 اکتوبر، 2026 · 20 جمادی الاول، 1448 ہجری

اگرگورنر مولانا کی پارٹی کا ہوتا تو ان کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج پر اعتراض نہ ہوتا، طلال چوہدری

قومی خبریں
اگرگورنر مولانا کی پارٹی کا ہوتا تو ان کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج پر اعتراض نہ ہوتا، طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ھے کہ مولانا فضل الرحمان کے لہجے میں تلخی، غصہ اور جھنجھلاہٹ نمایاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہاں تک گنوائیں کہ ریاست نے مولانا کو کیا کچھ دیا ہے، وہ ہم سے زبردستی ٹکراؤ کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔

طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر خیبرپختونخوا کا گورنر مولانا فضل الرحمان کی جماعت سے ہوتا تو انہیں صوبے میں گورنر راج پر اعتراض نہ ہوتا۔ ان کے مطابق مولانا نے آخری فون کال پر نہ کوئی امید دلائی اور نہ ہی ان کے پاس کوئی منصوبہ تھا۔

وزیر مملکت نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان 2024 میں حکومت کا حصہ بننا چاہتے تھے، لیکن انتخابی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ انہیں انتخابات کے پہلے روز سے ہی غصہ ہے۔

دوسری جانب نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور حکومت کے درمیان تنازع توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسے کسی شخص پر اعتماد نہیں جس نے حکومت کی تبدیلی کے دوران بانی پی ٹی آئی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت