گھر تک محدود رہنے والے بچوں کی ہڈیاں کمزور ہونے کی وجوہات سامنے آگئیں

بچوں کی ہڈیوں کو مضبوط بنانے اور جسمانی نشوونما بہتر رکھنے کے لیے صرف غذائیت سے بھرپور خوراک کافی نہیں، بلکہ مناسب دھوپ، روزانہ جسمانی سرگرمی اور متحرک طرزِ زندگی بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق گھر کے اندر زیادہ وقت گزارنے، موبائل فون اور ٹیلی ویژن کے مسلسل استعمال اور ضروری غذائی اجزا کی کمی سے بچوں کی ہڈیوں کی نشوونما متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
بچپن اور لڑکپن جسمانی نشوونما کے اہم ادوار ہیں، جن میں ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور مستقبل کے لیے ان میں معدنیات کا ذخیرہ بڑھتا ہے۔ اگر اس دوران بچوں کو مناسب غذا، وٹامن ڈی اور جسمانی سرگرمیوں کے مواقع میسر نہ آئیں تو ہڈیاں مطلوبہ مضبوطی حاصل نہیں کر پاتیں۔ اس کا اثر مستقبل میں بھی ہڈیوں کی صحت پر پڑ سکتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ہڈیوں کی کمزوری ہمیشہ ابتدا ہی میں واضح علامات ظاہر نہیں کرتی، اس لیے والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی خوراک، روزمرہ معمولات اور جسمانی نشوونما پر نظر رکھیں۔ صحت مند عادات اپنانے سے ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے اور بعض مسائل کے خطرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
بچوں میں ہڈیوں کی کمزوری کیوں بڑھ سکتی ہے؟
بچوں کے روزمرہ معمولات میں تبدیلی ہڈیوں کی صحت کو متاثر کرنے والے اہم عوامل میں شامل ہے۔ پہلے جہاں بچے کھیل کے میدانوں میں دوڑنے، اچھلنے اور مختلف جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے وقت نکالتے تھے، وہیں اب بہت سے بچے گھر کے اندر بیٹھ کر موبائل فون، ٹیلی ویژن اور دیگر اسکرینوں پر زیادہ وقت گزارتے ہیں۔
جسمانی سرگرمیوں میں کمی کے ساتھ غیر متوازن خوراک بھی ہڈیوں کی نشوونما متاثر کر سکتی ہے۔ اگر بچوں کو کیلشیم، پروٹین اور وٹامن ڈی مناسب مقدار میں نہ ملیں تو ہڈیوں کی تعمیر اور مضبوطی کا عمل متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
بچپن میں ہڈیوں کی صحت پر توجہ دینا اس لیے بھی اہم ہے کہ اس عمر میں حاصل ہونے والی ہڈیوں کی مضبوطی زندگی کے بعد کے مراحل میں ہڈیوں کی صحت کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ بچوں کی غذا اور جسمانی سرگرمیوں کو یکساں اہمیت دیں۔
کیلشیم، وٹامن ڈی اور دھوپ کا ہڈیوں سے کیا تعلق ہے؟
ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کیلشیم اور وٹامن ڈی اہم غذائی اجزا ہیں۔ کیلشیم ہڈیوں کی تعمیر اور مضبوطی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، جبکہ وٹامن ڈی جسم کو خوراک سے کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ان دونوں اجزا کی مناسب مقدار بچوں کی صحت مند نشوونما کے لیے ضروری ہے۔
دھوپ جسم میں وٹامن ڈی بننے کا قدرتی ذریعہ ہے، تاہم ہر بچے کے لیے دھوپ میں گزارے جانے والے وقت کا ایک ہی معیار مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا انحصار موسم، دن کے وقت، جلد کی رنگت اور دیگر عوامل پر ہوتا ہے۔ بچوں کو دھوپ سے فائدہ پہنچانے کے ساتھ جلد کو جلنے سے محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔
بچوں کی خوراک میں دودھ، دہی، پنیر اور کیلشیم سے بھرپور دوسری غذائیں شامل کرنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح انڈے، دالیں، پھلیاں اور خشک میوے پروٹین فراہم کرتے ہیں، جو جسمانی نشوونما اور ہڈیوں کے گرد موجود پٹھوں کی مضبوطی کے لیے اہم ہے۔
اگر کسی بچے کو خوراک اور دھوپ سے مناسب وٹامن ڈی حاصل نہ ہو رہا ہو تو ڈاکٹر اس کی ضرورت کے مطابق سپلیمنٹ تجویز کر سکتے ہیں۔ والدین کو طبی مشورے کے بغیر کیلشیم یا وٹامن ڈی کی گولیاں نہیں دینی چاہییں، کیونکہ ان اجزا کی ضرورت سے زیادہ مقدار بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
روزانہ ایک گھنٹے کی جسمانی سرگرمی بچوں کے لیے کیوں اہم ہے؟
متوازن غذا کے ساتھ جسمانی سرگرمیاں بھی بچوں کی ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ دوڑنا، رسی کودنا، اچھلنا اور فٹ بال یا باسکٹ بال جیسے کھیل ہڈیوں پر مناسب جسمانی دباؤ ڈالتے ہیں، جس سے ان کی مضبوطی میں مدد ملتی ہے۔
ماہرین کی عمومی سفارشات کے مطابق 6 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کو روزانہ کم از کم 60 منٹ جسمانی سرگرمی میں حصہ لینا چاہیے۔ ان سرگرمیوں میں ہفتے کے کم از کم 3 دن ایسی ورزشیں اور کھیل شامل ہونے چاہییں جو ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیں۔
چھوٹے بچوں کے لیے باہر کھیلنا، دوڑنا اور اچھل کود کرنا جسمانی نشوونما کے مفید طریقے ہیں۔ والدین بچوں کو ان کی عمر اور جسمانی صلاحیت کے مطابق کھیلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دے سکتے ہیں، تاکہ وہ مسلسل اسکرین کے سامنے بیٹھنے کے بجائے متحرک معمولات اپنائیں۔
جسمانی سرگرمیوں کے دوران چوٹوں سے بچاؤ کے لیے محفوظ جگہ کا انتخاب، مناسب جوتوں کا استعمال اور سرگرمی کے بعد ضروری آرام بھی اہم ہے۔ بچوں کی عمر اور صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کھیلوں کا انتخاب کرنا چاہیے۔
ہڈیوں کی کمزوری کی کون سی علامات نظرانداز نہیں کرنی چاہییں؟
بچوں میں ہڈیوں کی کمزوری بعض اوقات بغیر کسی واضح علامت کے بھی موجود ہو سکتی ہے، تاہم چند ایسی نشانیاں ہیں جن پر والدین کو توجہ دینی چاہیے۔ معمولی گرنے یا ہلکی چوٹ کے نتیجے میں بار بار ہڈی ٹوٹنا، ہڈیوں یا جوڑوں میں مسلسل درد، پٹھوں کی کمزوری اور جسمانی نشوونما میں تاخیر طبی معائنے کی ضرورت کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔
اسی طرح بچے کے چلنے کے انداز میں غیر معمولی تبدیلی، ٹانگوں کا زیادہ ٹیڑھا ہونا یا کلائیوں پر سوجن بھی کسی طبی مسئلے کی علامت ہو سکتی ہے۔ بعض بچوں میں یہ علامات رکٹس نامی بیماری سے تعلق رکھ سکتی ہیں، جس میں ہڈیاں مناسب طور پر مضبوط نہیں ہو پاتیں۔ اس بیماری کا تعلق اکثر وٹامن ڈی یا کیلشیم کی کمی سے ہوتا ہے۔
تاہم ان علامات کی موجودگی کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ بچے کی ہڈیوں میں کمزوری ہی ہے۔ مختلف مسائل میں ایسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، اس لیے والدین کو خود سے بیماری کی تشخیص یا علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
بچوں کی ہڈیوں کی جانچ کے لیے کون سے ٹیسٹ ضروری ہو سکتے ہیں؟
اگر بچے کی جسمانی نشوونما مناسب انداز میں نہ ہو رہی ہو، ہڈیوں میں مسلسل درد رہتا ہو یا معمولی چوٹوں سے بار بار فریکچر ہو رہے ہوں تو طبی معائنہ کروانا ضروری ہے۔ ڈاکٹر بچے کی علامات، طبی تاریخ اور جسمانی حالت کا جائزہ لینے کے بعد ضرورت کے مطابق ٹیسٹ تجویز کر سکتے ہیں۔
بعض صورتوں میں خون کے ٹیسٹ کے ذریعے وٹامن ڈی، کیلشیم، فاسفورس اور الکلائن فاسفیٹیز کی سطح معلوم کی جا سکتی ہے۔ ان نتائج سے ہڈیوں کی نشوونما یا معدنیات کی کمی سے متعلق بعض مسائل کی تشخیص میں مدد مل سکتی ہے۔
صحت مند بچوں میں ہڈیوں کی کثافت جانچنے کے لیے خصوصی اسکین عموماً معمول کے طور پر ضروری نہیں ہوتا۔ تاہم جن بچوں کو بار بار فریکچر ہوتے ہوں یا وہ کسی دائمی بیماری میں مبتلا ہوں، ان کے لیے ڈاکٹر طبی صورت حال کے مطابق اس ٹیسٹ کی تجویز دے سکتے ہیں۔
بروقت طبی معائنہ ہڈیوں کی کمزوری کی ممکنہ وجہ معلوم کرنے اور ضرورت کے مطابق علاج شروع کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے بعض پیچیدگیوں سے بچنے کے امکانات بھی بہتر ہو سکتے ہیں۔
والدین روزمرہ معمولات میں کون سی تبدیلیاں کریں؟
بچوں کی ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لیے والدین کو ان کی خوراک میں کیلشیم، پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزا کی مناسب مقدار یقینی بنانی چاہیے۔ بچوں کو محفوظ انداز میں دھوپ میں وقت گزارنے اور روزانہ جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔
موبائل فون، ٹیلی ویژن اور دوسری اسکرینوں کے سامنے مسلسل بیٹھے رہنے کی عادت کم کرکے بچوں کو کھیل کود کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ مناسب نیند، متوازن غذا اور عمر کے مطابق جسمانی سرگرمیاں صحت مند نشوونما میں مدد دیتی ہیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے قد، جسمانی نشوونما اور روزمرہ حرکت میں نمایاں تبدیلیوں پر توجہ دیں۔ اگر ہڈیوں میں مسلسل درد، بار بار فریکچر، چلنے پھرنے میں دشواری یا نشوونما میں تاخیر محسوس ہو تو طبی مشورہ لینے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
بچپن سے صحت مند معمولات اپنانے سے نہ صرف ہڈیوں اور پٹھوں کی مضبوطی میں مدد ملتی ہے بلکہ مستقبل میں ہڈیوں سے متعلق بعض مسائل کا خطرہ کم کرنے میں بھی معاونت حاصل ہو سکتی ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت