جمعرات، 29 اکتوبر، 2026 · 19 جمادی الاول، 1448 ہجری

خراب سروس کیخلاف پی ٹی اے متحرک؛ ٹیلی کام کمپنیوں پر 3 ارب سے زائد جرمانے

قومی خبریں
خراب سروس کیخلاف پی ٹی اے متحرک؛ ٹیلی کام کمپنیوں پر 3 ارب سے زائد جرمانے

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے صارفین کی شکایات پر ناقص معیار کی حامل موبائل اور انٹرنیٹ کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے انہیں 3 ارب 41 کروڑ روپے سے زائد کا بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق گزشتہ 4 برسوں کے دوران پی ٹی اے نے کوالٹی آف سروس کے معیار پر پورا نہ اترنے والے آپریٹرز کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ حکام کے مطابق اس دوران 86 شوکاز نوٹس اور 20 وارننگ لیٹرز جاری کیے گئے جبکہ ایک کمپنی پر 35 کروڑ تک کا جرمانہ عائد کیا گیا۔

ادارے نے ملک بھر میں 700 سے زائد سروے کیے جن میں شہروں، دیہاتوں، موٹرویز اور ریلوے ٹریکس کو شامل کیا گیا تھا۔ عوامی شکایات کے بروقت ازالے کے لیے دو سو اضافی سروے کیے گئے تاکہ سروس کے معیار میں حائل رکاوٹوں کا درست تعین کیا جا سکے۔

موجودہ سال کے پہلے 6 ماہ میں ہی 8 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں جن میں سے تقریباً 99 فیصد کا کامیاب تصفیہ کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی اے نے ٹول فری ہیلپ لائن کے ذریعے شہریوں کو درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے ایک مربوط نظام تشکیل دیا ہے۔

ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت دیگر شہروں میں کوریج کے فرق کو اکتوبر 2026 تک مکمل ختم کریں۔ ہر کمپنی کو اپنے نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے سالانہ ایک ہزار نئی موبائل سائٹس تنصیب کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

سپیکٹرم کی صلاحیت میں 480 میگا ہرٹز کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ فور جی اور فائیو جی انٹرنیٹ کی رفتار کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی اب صارفین کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے جس پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

ملک بھر میں 9 ہزار موبائل سائٹس بجلی کی لوڈشیڈنگ، سیکیورٹی مسائل اور چوری کی وارداتوں کے باعث متاثر رہتی ہیں، جن میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاقے سر فہرست ہیں۔

پی ٹی اے ترجمان نے کہا کہ عوام کو بلا تعطل اور معیاری خدمات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

بشکریہ روزنامہ جسارت