پاکستان میں اموات کی بڑی وجہ بننے والا فالج: وہ ساڑھے چار گھنٹے جو جان بچا سکتے ہیں

مارچ 2018 کے اُس دن زاہد بلال کے لیے سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ وہ گجرات میں ایک سروس سٹیشن پر اپنی گاڑی دھلوا رہے تھے جب ان کے فون پر عارف والا شہر سے بہن کی کال آئی۔
’والد صاحب گر گئے ہیں۔‘
زاہد بلال بتاتے ہیں کہ ابتدا میں انھوں نے اسے کوئی بہت غیر معمولی واقعہ نہیں سمجھا۔
ان کی بہن نے بتایا کہ والد گھر میں گر گئے تھے، لیکن پھر خود ہی اٹھ کر قریبی مسجد چلے گئے۔ کچھ دیر بعد طبیعت مزید بگڑنے پر مسجد میں موجود لوگ انھیں موٹرسائیکل پر عارف والا کے ہسپتال لے گئے۔
زاہد بلال کے بقول وہاں ’ڈرپ لگائی گئی‘ اور اہل خانہ کو مشورہ دیا گیا کہ مریض کو فوراً ساہیوال (عارف والا کے قریب شہر) منتقل کیا جائے۔
BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں، ' BBC News اردو' ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
’ڈاکٹروں نے صرف اتنا بتایا کہ معاملہ سنگین ہے اور اٹیک ہوا ہے، مگر بیماری کی نوعیت کے بارے میں کوئی واضح وضاحت نہیں کی گئی۔‘
اُس وقت زاہد بلال کو اندازہ نہیں تھا کہ ان کے والد کی زندگی ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جس کے بعد کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہے گا۔
در حقیقت ان کے والد فالج کا شکار ہو چکے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارۂ صحت، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)، کے مطابق فالج ایک طبی ہنگامی صورتحال ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب دماغ تک خون کی روانی منقطع ہو جائے۔ اس کی وجہ خون کی نالی میں پیدا ہونے والی رکاوٹ (کلاٹ یا لوتھڑا) ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دماغی خلیے مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔
اسلام آباد میں مقیم کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ، ڈاکٹر راشد عثمان کے مطابق جس طرح دل کو خون کی فراہمی میں رکاوٹ کی وجہ سے دل کا دورہ (ہارٹ اٹیک) ہوتا ہے، اسی طرح فالج کو ’برین اٹیک‘ بھی کہا جا سکتا ہے۔
ان کے بقول فالج اس وقت ہوتا ہے جب دماغ کے کسی حصے کو خون کی فراہمی متاثر یا منقطع ہو جائے۔ خون اور آکسیجن کی رسد متاثر ہونے سے دماغی خلیے نقصان اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں مریض جان سے بھی جا سکتا ہے یا پھر عمر بھر کے لیے معذوری کا شکار ہو سکتا ہے۔
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
فالج کے علاج میں ’وقت‘ سب سے اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بر وقت علاج نہ ملنے کی صورت میں نہ صرف جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے بلکہ مریض مستقل معذوری کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔
تاہم، اُس وقت تک زاہد بلال کو معلوم نہیں تھا کہ ہر گزرتا منٹ کتنا قیمتی ہے۔
زاہد بلال گجرات میں تھے جبکہ عارف والا میں بہن اور بھائی والد کے ساتھ تھے۔ ساری صورتحال انھیں فون پر بتائی جا رہی تھی۔
زاہد بلال بتاتے ہیں: ’میرے اعصاب جواب دے رہے تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں۔‘
ان کے بقول خاندان صورتحال کی سنگینی کو پوری طرح سمجھ نہیں پایا تھا۔ اور جب تک ان کے والد کو لاہور کے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، فالج کے اثرات واضح ہونا شروع ہو چکے تھے۔
سروسز ہسپتال پہنچنے پر زاہد بلال کو پہلی بار معلوم ہوا کہ ان کے والد فالج کا شکار ہوئے ہیں اور ان کے جسم کا بایاں حصہ متاثر ہو چکا ہے۔
’میں نے دیکھا کہ والد صاحب کے لیے نوالہ نگلنا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ تب میری حالت غیر ہو گئی۔‘
2018 میں فالج کے بعد زاہد بلال کے والد دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہو سکے اور 2021 میں وفات تک بستر تک محدود رہے۔
زاہد بلال کے والد کا تجربہ پاکستان میں فالج کے ہزاروں مریضوں کی کہانی سے مختلف نہیں۔
2025 میں طبی تحقیقی جریدے ’گلوبل ایپیڈیمیالوجی‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق فالج 2021 میں پاکستان میں اموات کی دوسری بڑی وجہ تھا، 99 ہزار 759 افراد اس کے باعث جان سے گئے۔
یہ مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 2021 میں دنیا بھر میں فالج کے تقریباً ایک کروڑ 19 لاکھ نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ نو کروڑ 38 لاکھ افراد فالج کے اثرات کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ کسی شخص کو اپنی زندگی میں فالج لاحق ہونے کا خطرہ، گذشتہ 20 برسوں میں 50 فیصد بڑھ چکا ہے اور اب ہر چار میں سے ایک بالغ شخص کو زندگی میں کبھی نہ کبھی فالج ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق فالج کی صورت میں ابتدائی چند گھنٹے انتہائی اہم ہوتے ہیں کیونکہ اسی دوران ایسا علاج فراہم کیا جا سکتا ہے جو نہ صرف جان بچانے بلکہ مستقل معذوری کے خطرے کو بھی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ علاج ٹی این کے (TNK) نامی انجیکشن ہے، جسے فالج کے مریضوں کو مخصوص وقت کے اندر دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں صوبۂ پنجاب کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ صوبے بھر میں قائم کیے گئے سٹروک سینٹرز میں یہی علاج مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پنجاب میں 40 پرائمری سٹروک سینٹر فعال ہیں جہاں اب تک سینکڑوں مریضوں کو ٹی این کے علاج فراہم کیا جا چکا ہے۔
لیکن یہ انجیکشن کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
اس سوال کے جواب کے لیے بی بی سی نے اسلام آباد میں مقیم میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر افرح ملک سے رابطہ کیا۔
ان کے مطابق ٹی این کے ایک ایسی دوا ہے جو فالج کا سبب بننے والے خون کے لوتھڑے کو تحلیل کرنے میں مدد دیتی ہے۔
ڈاکٹر افرح نے بتایا کہ ٹی این کے کا مکمل نام ٹینیکٹیپلاز ہے اور یہ صرف مخصوص سٹروک یونٹس میں ماہر نیورولوجسٹ کی نگرانی میں دیا جا سکتا ہے۔
بی بی سی سے گفتگو میں ڈاکٹر افرح نے بتایا کہ اگر مریض مناسب وقت میں ہسپتال پہنچ جائے تو یہ دوا بند شریان کو دوبارہ کھولنے میں مدد دے سکتی ہے۔
’فالج کے مریض کے لیے وقت بہت اہم ہوتا ہے۔ ابتدائی ساڑھے چار گھنٹے کے اندر اگر مریض کو یہ انجیکشن دیا جائے تو خون کے لوتھڑے تحلیل ہو سکتے ہیں، دماغ تک خون کی رسد بحال ہو سکتی ہے اور مستقل معذوری کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔‘
وزیر اعلیٰ پنجاب کے مطابق ٹی این کے انجیکشن کی ایک خوراک کی قیمت ’تین سے چار لاکھ روپے تک ہے، تاہم اسے (سرکاری سٹروک سینٹرز میں) عام آدمی کو مکمل طور پر مفت‘ فراہم کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق فالج کی علامات سے آگاہی، اس سے بچاؤ میں مدد دے سکتی ہے، کیونکہ مریض جتنی جلدی ہسپتال پہنچے، اس کے مکمل یا جزوی طور پر صحت یاب ہونے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔
کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ ڈاکٹر راشد عثمان کے مطابق فالج کی علامات کو یاد رکھنے کے لیے ’بی فاسٹ (BEFAST)‘ رُول استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر راشد نے وضاحت کی کہ ’بی فاسٹ‘ در اصل فالج کی علامات یاد رکھنے کا ایک مخفف ہے۔
بی (B: Balance): اچانک توازن بگڑ جانا، لڑکھڑانا، بیٹھنے یا چلنے میں دشواری محسوس ہونا یا چکر آنا۔
ای (E: Eyes): اچانک بینائی چلے جانا۔
ایف (F: Face) چہرے کا ایک حصہ لٹک جانا یا ٹیڑھا ہو جانا۔
اے (A: Arm) ایک بازو یا ٹانگ میں اچانک کمزوری پیدا ہونا یا سُن ہونا۔
ایس (S: Speech) بولنے میں مشکل ہونا، الفاظ گڈ مڈ ہونا یا بات سمجھ نہ آنا۔
ٹی (T: Time) وقت ضائع کیے بغیر فوری طبی امداد حاصل کرنا۔
ڈاکٹر راشد عثمان کے مطابق اگر ان میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوری طور پر طبی امداد حاصل کرنی چاہیے، کیونکہ فالج کی صورت میں چند گھنٹوں کی تاخیر بھی مستقل معذوری کا سبب بن سکتی ہے۔
فالج کی علامات کو پہچاننا ایک بات ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ بیماری ہوتی کیوں ہے اور اس سے بچا کیسے جا سکتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر افرح ملک نے بتایا کہ فالج کے خطرے کی بڑی وجوہات میں ذیابیطس (شوگر)، ہائی بلڈ پریشر (بلند فشار خون)، دل کی بیماریاں، خون میں کولیسٹرول کی زیادتی، موٹاپا اور سگریٹ نوشی شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ان عوامل کی وجہ سے دماغ کو خون پہنچانے والی شریانوں کو نقصان پہنچتا ہے جو بالآخر فالج کا سبب بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر افرح ملک کے مطابق ان خطرات سے بچنے کے لیے متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، وزن پر قابو، تمباکو نوشی سے پرہیز اور بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کی باقاعدہ جانچ ضروری ہے۔
ان کے بقول فالج سے بچاؤ صرف ادویات سے ممکن نہیں بلکہ طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیوں اور بر وقت طبی معائنے کا بھی اہم کردار ہے۔
ماہرین اسی بات پر زور دیتے ہیں کہ فالج کی صورت میں وقت سب سے قیمتی سرمایہ ہوتا ہے۔ علامات ظاہر ہونے کے بعد چند گھنٹوں کی تاخیر بھی مریض کی زندگی کا رخ بدل سکتی ہے، اسی لیے فالج کی علامات کو پہچاننا اور فوری طبی امداد حاصل کرنا انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
زاہد بلال آج بھی سوچتے ہیں کہ اگر ان کے خاندان کو اُس وقت فالج کی علامات اور اس کے علاج کے لیے دستیاب محدود وقت کا علم ہوتا تو شاید ان کے والد کی زندگی ایک مختلف رخ اختیار کرتی۔
BBC World Service کی نئی ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔
’BBC News اردو‘ ایڈیشن کا انتخاب کریں اور نیوز الرٹس، تحقیقاتی اور تفصیلی رپورٹس، سب کچھ ایک ہی جگہ پر حاصل کریں۔
بشکریہ بی بی سی اردو