اسپین کے فیصلے واشنگٹن یا تل ابیب میں نہیں بلکہ اسپین میں ہوں گے، ہسپانوی وزیراعظم
میڈرڈ: اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے کہا ہے کہ 29 نومبر کو ہونے والے عام انتخابات ثابت کریں گے کہ اسپین کے قومی فیصلے واشنگٹن یا تل ابیب میں نہیں بلکہ اسپین میں کیے جاتے ہیں، اسپین اپنی خودمختاری اور آزاد خارجہ پالیسی پر کسی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔
انتخابی مہم کے سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے کہا کہ آئندہ انتخابات کے ذریعے دنیا کو واضح پیغام دیا جائے گا کہ اسپین اپنے فیصلے خود کرتا ہے اور کسی بیرونی طاقت کے اشاروں پر اپنی پالیسیاں مرتب نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور برازیل میں حالیہ سیاسی تبدیلیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دائیں بازو کی انتہا پسندی کی بڑھتی ہوئی لہر کو روکا اور اس کا رخ تبدیل کیا جا سکتا ہے،اسپین میں بھی ایسی ہی سیاسی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی اور عوام انتہا پسندانہ سیاست کے بجائے معتدل سیاسی راستے کا انتخاب کریں گے۔
ہسپانوی وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر دائیں بازو کی انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باوجود اسپین نے متعدد اہم عالمی معاملات پر اپنا آزادانہ مؤقف برقرار رکھا ہے۔ ان میں ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت اور غزہ میں جاری نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانا بھی شامل ہے۔
پیدرو سانچیز نے واضح کیا کہ اسپین کے فیصلے اسپین میں ہی کیے جاتے ہیں، واشنگٹن، تل ابیب، بیونس آئرس یا ماسکو میں نہیں، کسی بھی خودمختار ملک کو اپنی خارجہ پالیسی اور قومی ترجیحات کے تعین کا مکمل اختیار ہونا چاہیے اور اسے بیرونی دباؤ کے تحت اپنے مؤقف میں تبدیلی نہیں کرنی چاہیے۔
اس موقع پر وزیراعظم پیدرو سانچیز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو کے رکن ممالک کو دفاعی اخراجات بڑھا کر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 5 فیصد کرنے کے مطالبے کو مسترد کرنے کے اپنے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسپین امریکی مطالبے کے مطابق فوجی اخراجات میں اضافے کے بجائے عوامی سہولتوں، سماجی بہبود اور شہریوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیتا رہے گا، قومی وسائل کے استعمال میں عوامی ضروریات اور سماجی تحفظ کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
پیدرو سانچیز کے اس بیان کو اسپین کی خودمختار خارجہ پالیسی، ایران اور غزہ سے متعلق مؤقف اور دفاعی اخراجات کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے اختلاف کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران واضح کیا ہے کہ اسپین اپنے قومی مفادات اور عوامی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرے گا۔
بشکریہ روزنامہ جسارت