اتوار، 8 نومبر، 2026 · 29 جمادی الاول، 1448 ہجری

امریکا دشمنانہ پالیسیاں ترک کرے ورنہ زوال اور انتشار کا سامنا کرنا پڑے گا، ایران

قومی خبریں
امریکا دشمنانہ پالیسیاں ترک کرے ورنہ زوال اور انتشار کا سامنا کرنا پڑے گا، ایران

تہران: ایران کی مسلح افواج نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بالادستی اور دشمنانہ پالیسیاں اختیار کرنے سے باز رہے، بصورت دیگر ایران کے خلاف محاذ آرائی کرنے والی ہر طاقت کو بالآخر زوال اور انتشار کا سامنا کرنا پڑے گا، ایران کے خلاف دباؤ اور محاذ آرائی سے واشنگٹن اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکے گا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا کہ امریکا کو ایران کے خلاف اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے اور خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوششیں ترک کردینی چاہئیں، ایران کے خلاف دشمنانہ اقدامات اور دباؤ کی پالیسی اختیار کرنے والی طاقتوں کو بالآخر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں حالیہ سیاسی اور انتخابی تبدیلیاں محض اندرونی سیاسی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی پالیسیوں کی ناکامی کی عکاسی کرتی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی سیاست میں سامنے آنے والی تبدیلیاں اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران کے خلاف اختیار کی گئی حکمت عملی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے،ایک مضبوط اور مزاحمت کرنے والے ایران نے امریکی دباؤ اور مخالفانہ اقدامات کا مقابلہ کیا ہے، جس کے باعث واشنگٹن کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت پیش آرہی ہے۔

ایرانی فوجی ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ایران کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانی چاہیے، ایران کو دباؤ کے ذریعے جھکانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور جو طاقتیں اسلامی جمہوریہ کے خلاف کھڑی ہوں گی، انہیں اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا، ایران کے خلاف سیاسی، معاشی اور فوجی دباؤ کی پالیسی خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بن سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، علاقائی اثر و رسوخ اور مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر طویل عرصے سے اختلافات چلے آرہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی اور خطے میں جاری جنگ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ فوجی اور سفارتی محاذ پر ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات کے باعث خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت