لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ایک بار پھر سرفہرست
لاہور: دنیا کے بڑے آلودہ شہروں میں لاہور آج ایک بار پھر سرفہرست آگیا جبکہ پنجاب کے متعدد دیگر شہروں میں بھی فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بلند ریکارڈ کی گئی ہے۔ فضائی آلودگی میں اضافے کے باعث شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں جبکہ سانس اور آنکھوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے صورت حال مزید تشویش ناک ہوگئی ہے۔
عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق لاہور کی فضا میں آلودگی کی سطح 292 پرٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا۔ فضائی معیار کی اس خراب صورت حال نے شہری زندگی کو متاثر کیا ہے جبکہ صبح اور شام کے اوقات میں دھند اور آلودگی کے امتزاج سے حد نگاہ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی فضائی آلودگی کی سطح انتہائی مضر صحت ریکارڈ کی گئی۔ ننکانہ صاحب میں فضائی آلودگی 685 پرٹیکیولیٹ میٹر تک پہنچ گئی، جو صوبے کے مختلف شہروں میں ریکارڈ کی جانے والی بلند ترین سطحوں میں شامل ہے۔ اسی طرح ڈیرہ غازی خان میں آلودگی کی سطح 611 ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق جھنگ میں فضائی آلودگی 498، ملتان میں 301، گوجرانوالہ میں 296 اور فیصل آباد میں 294 پرٹیکیولیٹ میٹر ریکارڈ کی گئی۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضائی آلودگی کا مسئلہ صرف لاہور تک محدود نہیں رہا بلکہ پنجاب کے متعدد اضلاع اس کی لپیٹ میں ہیں۔
فضا میں موجود باریک آلودہ ذرات سانس کے ذریعے پھیپھڑوں تک پہنچ کر صحت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، جبکہ طویل عرصے تک آلودہ ماحول میں رہنے سے مختلف بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز، کھلی فضا میں سخت جسمانی مشقت محدود رکھنے اور باہر جاتے وقت حفاظتی ماسک استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
پنجاب کے مختلف شہروں میں آلودگی کی بلند سطح نے ایک بار پھر فضائی معیار بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت اجاگر کردی ہے۔ گاڑیوں اور صنعتی کارخانوں سے نکلنے والا دھواں، فصلوں کی باقیات جلانے اور دیگر آلودگی پھیلانے والے عوامل پر قابو پائے بغیر اس مسئلے پر قابو پانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔ شہریوں کو صاف فضا کی فراہمی اور صحت کے تحفظ کے لیے مستقل اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت