مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے: پوپ لیو

کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے مصنوعی ذہانت کی تیزی سے ہونے والی ترقی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو اخلاقی ضابطوں اور انسانی اقدار کا پابند نہ بنایا گیا تو معاشرے میں انسانی وقار اور اہمیت متاثر ہوسکتی ہے۔
پوپ لیو کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ یہ خطرہ بھی بڑھ رہا ہے کہ انسان مشینوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگیں اور انسانی شناخت و اقدار پس منظر میں چلی جائیں۔ ان کے مطابق اگر ٹیکنالوجی کی پیش رفت کو اخلاقی اصولوں کے مطابق نہ رکھا گیا تو دنیا بظاہر ایک ایسی مثالی جگہ بن سکتی ہے جہاں مشینوں کی صلاحیتوں کو فوقیت حاصل ہوگی، لیکن انسان کی اہمیت کم ہوتی چلی جائے گی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پوپ لیو چہاردہم نے فرانس کے دورے کے دوران پیرس میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سمیت سرکاری اور سفارتی شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر انہوں نے توجہ دلائی کہ جدید دور میں ایک عجیب تضاد جنم لے رہا ہے۔ ایک طرف کمپیوٹر نظاموں کو ذہانت رکھنے والی ٹیکنالوجی کے طور پر تسلیم کیا جارہا ہے، جبکہ دوسری جانب انسانوں کے بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ وقار کو تسلیم کرنے میں مشکلات سامنے آرہی ہیں۔
پوپ لیو چہاردہم کے مطابق مصنوعی ذہانت کی ترقی کا مقصد انسانی زندگی میں بہتری لانا ہونا چاہیے، تاہم اس عمل میں انسانی اقدار، اخلاقی حدود اور شخصی وقار کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا انتباہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو انسانی ضروریات کے تابع رکھنے کے بجائے اسے معاشرے پر حاوی ہونے دیا گیا تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت