ایران: پولیس اسٹیشن پر حملے کے الزام میں بلوچ علیحدگی پسند کو سزائے موت دے دی گئی

ایرانی حکام نے جنوب مشرقی ایران میں پولیس اسٹیشن پر مہلک حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں سزائے موت پانے والے بلوچ شہری محمد عارف شاہ بخش کو تختہ دار پر لٹکا دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے عدالتی کارروائی کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے ملزم کو مناسب قانونی دفاع سے محروم رکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن نے تصدیق کی ہے کہ محمد عارف شاہ بخش کا تعلق کالعدم مسلح تنظیم جیش العدل سے تھا۔ انہیں صوبہ سیستان بلوچستان کے شہر خاش میں واقع قلعہ بید پولیس اسٹیشن پر مسلح حملے کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
ایرانی عدلیہ کے مطابق مذکورہ حملے کے دوران متعدد پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ تاہم حکام کی جانب سے واقعے کی تاریخ اور ہلاک و زخمی اہلکاروں کی حتمی تعداد سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
میزان آن لائن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ عدالت نے محمد عارف شاہ بخش کو مسلح بغاوت اور اسلامی قوانین کے تحت محاربہ یعنی جنگ چھیڑنے کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ ایرانی عدلیہ کے مطابق ہفتے کی صبح تمام قانونی مراحل مکمل کرنے کے بعد سزا پر عمل درآمد کردیا گیا۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاو نے اس عدالتی فیصلے اور کارروائی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ محمد عارف شاہ بخش کو مقدمے کے دوران شفاف عدالتی کارروائی اور اپنے دفاع کے لیے مناسب قانونی مواقع فراہم نہیں کیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ جیش العدل ایران کی کالعدم مسلح تنظیم ہے، جو ملک کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں سرگرم ہے۔ یہ سرحدی خطہ طویل عرصے سے ایرانی سکیورٹی فورسز اور مختلف مسلح گروہوں کے درمیان کشیدگی اور جھڑپوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت