مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے قطر نے نیا سفارتی فارمولا پیش کردیا
دوحہ: قطر نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع ختم کرنے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے نیا سفارتی منصوبہ پیش کردیا ہے، جس کے تحت ایران اپنی امریکی حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات تک اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو رسائی دینے پر آمادہ ہوگا، جبکہ امریکا ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور منجمد ایرانی اثاثوں میں سے کچھ رقم جاری کرنے پر غور کرے گا۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی 7 نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق قطر اس منصوبے کے ذریعے تہران اور واشنگٹن کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مذاکرات کی نئی راہ ہموار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ مجوزہ فارمولے کا ایک اہم مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنا بھی ہے، جس کی بندش نے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق قطری منصوبے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو ان جوہری تنصیبات کا معائنہ کرنے کی اجازت دے جو امریکی حملوں میں متاثر ہوئی تھیں۔
ان تنصیبات میں وہ مقامات بھی شامل ہیں جہاں ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم ذخیرہ موجود ہے۔ تاہم تجویز کے تحت ایران کو اپنا یورینیم ذخیرہ فوری طور پر کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کا پابند نہیں کیا جائے گا۔
بشکریہ روزنامہ جسارت