یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی منصوبے کا ایلیویٹڈ یوٹرن عجوبہ:سوشل میڈیا صارفین کی سندھ حکومت پرتنقید

کراچی: یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کا ایلیویٹڈ یوٹرن عام ٹریفک کے لیے کھلنے کے بعد ٹیوٹر (ایکس)فیس بک اور دیگر پلیٹ فارم پر سوشل میڈیا صارفین پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کوتنقید کا نشانا بنارہےہیں۔
کراچی میں یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کے تحت جامعہ کراچی کے قریب پہلا ایلیویٹڈ یوٹرن 5 نومبر 2026 کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین اور عوام کی جانب سے اس منصوبے پر طویل تاخیر (گزشتہ 4 سال سے جاری کام)،ڈیزائن کی تبدیلیوں، اور 15 ستمبر تک سڑک کا 100 فیصد کام مکمل کرنے کی حکومتی یقین دہانی کے پورا نہ ہونے پر تنقید کی جا رہی ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ اس یوٹرن کے کھلنے سے ٹریفک سہولت میں اضافہ ہوگا اور ریڈ لائن منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکام (ٹرانس کراچی، ایف ڈبلیو او اور سندھ حکومت) کے مطابق اس ایلیویٹڈ یوٹرن کا مقصد یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا اور شہریوں کو آمدورفت میں آسانی فراہم کرنا ہے۔
ٹیوٹر ایکس پر راؤ زلفی نامی ایک صارف نے لکھا کہ کراچی یونیورسٹی روڈ پر موسمیات کے قریب جو یوٹرن بنایا ہے، سندھ گورنمنٹ نے اپنی طرف سے بڑا ہی کوئی خوبصورت شاہکار بنا ہے. لیکن وہ اتنا ہی تنگ ہے جتنا ان کا ترقی کا ویژن تنگ ہے!
بس ٹرک تو دور ایک کار بھی اس پہ خراب ہو کے رک گئی تو یوٹرن بند!
نازش علوی نے اپنے ٹیوٹر(ایکس) اکاونٹ پرلکھا کہ یہ یونیورسٹی روڈ کا شاہکار یوٹرن ہے یا عوام کی ڈرائیونگ اسکلز کا امتحان ہے؟؟واٹر پارک کی سلائیڈز کا خوف نکالنے کی کوشش؟کریم آباد انڈتر پاس کے بعد اس لہراتے بل کھاتے ناگ یوٹرن پہ شر+جیل میمن کا فخریہ مارکٹنگ کرنا تو جائز ہے۔
محمد عدنان نے اپنے ٹیوٹر(ایکس) اکاونٹ پرلکھا کہ پیپلزپارٹی کا ایک اور عجوبہ سامنے آ گیا یونیورسٹی روڈ پر بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کے تحت جامعہ کراچی کے قریب نیاایلیویٹڈ یوٹرن ٹریفک کے لیے کھول کر دنیا کو حیران کر دیا صرف ایک گاڑی گزر سکتی ہے ایسے کارنامے پیپلزپارٹی کے علاوہ کوئی اور نہیں کر سکتا!!!
محمد سمیع الدین نے اپنے ٹیوٹر(ایکس) اکاونٹ پر لکھا کہ مطلب اس مکمل فیل ڈیزائن یو ٹرن میں سے اگر گزرتی ہوئی کوئی گاڑی خراب ہوگئی، توپورا روڈ (جو یو ٹرن لینے والے ہیں) مکمل بلاک ہو جائے گا.خراب ہوئی گاڑی کو راستے سے ہٹانے کیلئے یا تو کرین درکار ہوگی یا سڑک کی دوسری جانب سے کسی دوسری گاڑی کو آ کر اس خراب گاڑی کو ہٹانا ہوگا.
عامر شیخ نے اپنے ٹیوٹر(ایکس) اکاونٹ پر لکھا ہے کہ سندھ سرکار کی کاوشوں سے BRT یونیورسٹی روڈ پروجیکٹ پر موسمیات کے مقام پر ایک فلائی اوور مکمل ہوا مگر جہاں سے فلائی اوور پر چڑھنا ہے وہاں بس اسٹاپ ہے تو ٹریفک جام ہی رہتا ہے اور عوام کو موقع نہیں ملتا کہ اس سہولت سے فیضیاب ہوں کوئی توجہ دیں متعلقہ ادارے ٹریفک پولیس والے ہی لگا دیں۔
شوزی نامی صارف نے لکھا کہ ویسےبھائ ایسا ایلیویٹیڈ یو ٹرن تو دنیا میں نہیں دیکھا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ نمونہ بنانے میں کامیاب ہوئ ہے جیسے حیدرآباد میں کھمبوں والی سڑک بنائ حال ہی میں۔ ایسا unsafe بےتکا یوٹرن دنیا میں نہیں دیکھا۔
سرور نقوی نامی صارف نے لکھا کہ قیامت کے دن اونٹ سوئی کے ناکے سےدوڑتے ہوۓنکل جائیں گےمگر کراچی شہر میں یونیورسٹی روڈ پر جیالوں کے بناۓ ہوۓجدید ترین سائنسی ریمپ عرفElevated_turn سےعوام کی گاڑیوں کا نکلنا امرِ محال ہی رہے گا۔
نذیر الحسن نامی فیس بک صارف نے لکھا کہ زمبابوے کے صوبے ساندھو کے شہر کرانچی کی یوناسٹی روڈ پر یوٹرن عوام کیلئے کھول دیا گیاپتہ نہیں کیوں اس پر سب تنقید کر رہے ہیں؟پہلے کہتے تھے روڈ نہیں بن رہی اب جب مرحلہ وار اسے کھولا جا رہا ہے تو بے جا تنقید کہتے ہیں یہ سڑک اتنی تنگ ہے کہ بیک وقت صرف ایک گاڑی ہی نکل سکتی ہےبھائی تم نے کیا پل پر سائڈ بائے سائڈ گاڑیاں چلا کر ورلڈ ریکارڈ بنانا ہےبس موقع ملنا چاہیے تمہیں ساندھو سرکار پر تنقید کا ۔
محمد محب انصاری نامی صارف نے اپنے فیس بک پر لکھا کہ پیپلز پارٹی کا کریم آبادانڈر پاس (پتلی گلی) کے بعدایک اور تاریخی شاہکار
کراچی یونیورسٹی روڈ پر موسمیات کے قریب جو یوٹرن بنایا ہے،پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے اپنی طرف سے بڑا ہی کوئی خوبصورت شاہکاربنایا ہے. لیکن وہ اتنا ہی تنگ ہے جتنا ان کا ترقی کا ویژن تنگ ہے!بس ٹرک تو دور ایک کار بھی اس پہ خراب ہو کے رک گئی تو یوٹرن بند!سندھ حکومت نے یونیورسٹی روڈ پر ریڈلائن بی آر ٹی کا یوٹرن کھل دیا ہے۔ دوسر ی جانب سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہےکہ سندھ حکومت نے یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن بی آر ٹی کا یوٹرن کھول کر شہریوں کو سفری سہولت فراہم کی گئی ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ ریڈلائن بی آر ٹی منصوبےکی بروقت تکمیل کےلئے غیر معمولی اقدامات کئے جائیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت