پیرو: گندے موزوں میں 3 ہزار مکڑیاں چھپا کر بیرون ملک اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

پیرو کے ہوائی اڈے پر اسمگلنگ کی ایک انوکھی کوشش ناکام بناتے ہوئے کسٹمز حکام نے گندے موزوں میں چھپائی گئی 3 ہزار سے زائد زندہ ٹارنٹولا مکڑیاں برآمد کرلیں، جنہیں جرمنی منتقل کیا جارہا تھا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ کارروائی پیرو کے دارالحکومت لیما کے جارج شاویز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر عمل میں آئی، جہاں معمول کی جانچ پڑتال کے دوران حکام کو مسافروں کے سامان میں مشکوک نقل و حرکت محسوس ہوئی۔ اہلکاروں نے جب سوٹ کیس کھول کر تلاشی لی تو اندر گندے موزوں میں چھپائی گئی ہزاروں زندہ مکڑیاں موجود تھیں۔
پیرو کے قومی جنگلات و جنگلی حیات کے ادارے کے مطابق مکڑیوں کی یہ بڑی کھیپ 3 مسافروں کے سامان سے برآمد ہوئی، جن میں 2 جرمن اور ایک پولینڈ کا شہری شامل تھا۔ ملزمان نے مکڑیوں کو کسٹمز کی نظروں سے بچانے کے لیے 3 سوٹ کیسوں میں گندے موزوں کے اندر چھپا رکھا تھا، تاکہ انہیں جرمنی اسمگل کیا جاسکے۔
حکام کے مطابق برآمد ہونے والی مکڑیاں مختلف مراحلِ نمو سے تعلق رکھتی تھیں، جن میں انڈے، نومولود اور مکمل طور پر بالغ ٹارنٹولا مکڑیاں بھی شامل تھیں۔ اس غیرمعمولی برآمدگی کے بعد تینوں مسافروں کو حراست میں لے لیا گیا۔
اسمگل کی جانے والی مکڑیوں کی مالیت کتنی ہے؟
حکام کا کہنا ہے کہ یورپی منڈی میں ایک ٹارنٹولا مکڑی کی قیمت تقریباً 500 یورو تک ہوسکتی ہے۔ اس حساب سے ضبط کی گئی 3 ہزار سے زائد مکڑیوں کی مجموعی ممکنہ مالیت تقریباً 15 لاکھ یورو بنتی ہے، جو اس غیرقانونی کاروبار کے حجم کو ظاہر کرتی ہے۔
پولیس نے تینوں مشتبہ افراد کے خلاف جنگلی حیات کی غیرقانونی تجارت اور اسمگلنگ کے الزامات کے تحت قانونی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ برآمد ہونے والی مکڑیوں کو متعلقہ حکام کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت