کراچی ریڈ لائن منصوبہ تاخیر کا شکار کیوں؟ نامکمل ڈیزائن، کنسلٹنٹ اور انتظامی فیصلوں پر اہم سوالات اٹھ گئے

کراچی(رپورٹ: نادر خان) شہرکراچی کے اہم عوامی ٹرانسپورٹ منصوبے ریڈ لائن بی آر ٹی کی غیر معمولی تاخیر نے منصوبہ بندی، ڈیزائننگ، کنسلٹنٹ اور انتظامی نگرانی کے نظام پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اربوں روپے کی لاگت سے شروع ہونے والا منصوبہ برسوں گزرنے کے باوجود تکمیل سے دور ہے، جبکہ شہریوں کو ٹریفک جام، دھول مٹی، سڑکوں کی کھدائی اور سفری مشکلات کا سامنا ہے۔
کراچی میں یونیورسٹی روڈ سے ایم اے جناح روڈ سمیت مختلف اہم شاہراہوں پر جاری ترقیاتی سرگرمیوں اور تعمیراتی کاموں نے شہری زندگی کو متاثر کر رکھا ہے۔ ایسے میں ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کی تاخیر کے اسباب اور ذمہ دار اداروں کے کردار کا تعین اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق منصوبے کے انتظامی ڈھانچے، ڈیزائن کی تیاری اور تعمیراتی نگرانی سے متعلق متعدد معاملات سامنے آئے ہیں۔ بالخصوص کنسلٹنٹ کمپنی انجینئرز ایکسپوننٹ (Engineers Exponent)، ٹرانس کراچی کے انتظامی فیصلوں اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کے حوالے سے شفافیت اور وضاحت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی مالی معاونت سے شروع کیے گئے اس منصوبے کا مقصد کراچی میں جدید اور مؤثر عوامی ٹرانسپورٹ نظام متعارف کرانا تھا۔ منصوبے کا مجوزہ کوریڈور تقریباً 26.6 کلومیٹر طویل ہے، جس سے تقریباً 15 لاکھ شہریوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔
منصوبے کی منظوری سے تعمیراتی تنازع تک طویل سفر
دستاویزات میں درج تفصیلات کے مطابق کراچی بی آر ٹی منصوبے کا ابتدائی پس منظر 2013 سے شروع ہوتا ہے۔ 6 دسمبر 2013 کو ایشیائی ترقیاتی بینک نے منصوبے کے تصور کی منظوری کا ریکارڈ درج کیا، جبکہ 2016 میں ڈیزائن اور تفصیلی منصوبہ بندی کا عمل شروع ہوا۔
بعد ازاں 5 جولائی 2019 کو اے ڈی بی نے منصوبے کے لیے 235 ملین امریکی ڈالر کے قرض کی منظوری دی اور 19 جون 2020 کو پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان قرض کا معاہدہ طے پایا۔
اگست 2021 میں منصوبے کے انتظام اور تعمیراتی نگرانی کے لیے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کا معاہدہ کیا گیا، جبکہ دسمبر 2021 اور جنوری 2022 میں تعمیراتی کاموں کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق جولائی 2026 میں تعمیراتی تنازع کے دوران کنٹریکٹر کو فارغ کرنے کے حکومتی فیصلے پر بھی بورڈ کی سطح پر سوالات اٹھائے گئے۔
نامکمل ڈیزائن کے باوجود تعمیراتی کام شروع کرنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟
منصوبے سے متعلق دستاویزات میں ایک اہم انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ تعمیراتی سرگرمیاں مکمل ڈیزائن کی دستیابی سے قبل شروع کر دی گئی تھیں، جبکہ دورانِ تعمیر ڈیزائن میں متعدد تبدیلیاں بھی کی گئیں۔
رپورٹ میں نامکمل ڈیزائن، تعمیراتی معلومات کی تاخیر سے فراہمی، متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے فقدان اور انتظامی فیصلوں میں تاخیر کو منصوبے کی پیش رفت متاثر ہونے کے اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق کنٹریکٹر کو معاہدہ ختم ہونے سے قبل تمام 16 اسٹیشنوں کے مکمل ڈیزائن فراہم نہیں کیے جا سکے تھے۔ اس صورت حال نے تعمیراتی ذمہ داریوں اور تاخیر کے تعین سے متعلق سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
ماہرین کے نزدیک بڑے انفرااسٹرکچر منصوبوں میں ڈیزائن کی بروقت تکمیل، تعمیراتی مقامات کی دستیابی اور متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر ان مراحل میں تاخیر ہو تو اس کے اثرات منصوبے کی مدت، لاگت اور تعمیراتی معیار پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
کنسلٹنٹ کمپنی کے کردار اور تقرری کے طریقہ کار پر سوالات
دستاویزات کے مطابق سندھ حکومت کے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں کنسلٹنٹ کمپنی انجینئرز ایکسپوننٹ کا کردار رہا ہے، جبکہ کراچی بی آر ٹی منصوبے کے لیے بھی اسی کمپنی کو کنسلٹنسی کی ذمہ داریاں تفویض کی گئیں۔
کمپنی کے پاکستان میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر اشعر حشمت لودھی ہیں، جبکہ ٹرانس کراچی کے بورڈ چیئرمین ڈاکٹر سروش حشمت لودھی سے ان کا خاندانی تعلق بتایا جاتا ہے۔
اسی طرح ڈاکٹر سروش حشمت لودھی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے جامعہ این ای ڈی میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے بھی سوالات سامنے آئے ہیں۔
تاہم کسی شخص کا خاندانی یا تعلیمی تعلق بذاتِ خود کسی غیر قانونی اقدام یا مفادات کے ٹکراؤ کا ثبوت نہیں ہوتا۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ کنسلٹنٹ کمپنی کی تقرری کس طریقہ کار کے تحت ہوئی، کیا اس کے لیے مسابقتی پروکیورمنٹ کے قواعد پر عمل کیا گیا اور ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ سے بچنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے گئے؟
اس حوالے سے کمپنی کی اہلیت، تقرری کے عمل، معاہدے کی شرائط، کنسلٹنسی فیس اور منصوبے کی نگرانی میں اس کے کردار کی تفصیلات منظرعام پر لانے کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے۔
ٹرانس کراچی اور دیگر اداروں کی ذمہ داریاں کیا تھیں؟
منصوبے سے متعلق دستاویزات میں مختلف اداروں کی ذمہ داریوں کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ سندھ حکومت منصوبے کی اسپانسر اور مالی معاونت فراہم کرنے والی اتھارٹی ہے، جبکہ ٹرانس کراچی منصوبے پر عمل درآمد، خریداری، معاہدوں کے انتظام، رابطہ کاری اور مجموعی نگرانی کا ذمہ دار ادارہ ہے۔
سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (SMTA) کا بنیادی کردار ریگولیٹری نوعیت کا ہے، جبکہ منصوبے کے انتظام اور تعمیراتی نگرانی کے لیے مقرر کنسلٹنٹ کو بھی اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔
ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تعمیراتی ڈیزائن نامکمل تھے، ضروری معلومات بروقت فراہم نہیں کی گئیں اور مختلف فیصلوں میں تاخیر ہوئی تو ان معاملات کی ذمہ داری کس ادارے پر عائد ہوتی ہے؟
لاگت میں اضافے اور قومی خزانے پر بوجھ کا معاملہ
منصوبے کی طویل تاخیر کے ممکنہ مالی اثرات بھی تشویش کا باعث ہیں۔ دستاویزات میں لاگت میں اضافے کے خدشات سامنے آئے ہیں، تاہم اضافی مالی بوجھ کی حتمی مالیت اور اس کے اسباب کا تعین عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔
ڈیزائن میں تبدیلیوں، تعمیراتی رکاوٹوں اور انتظامی تاخیر کے نتیجے میں اگر منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے تو اس کی وجوہات، ذمہ داروں اور مالی اثرات کا باقاعدہ آڈٹ ہونا چاہیے۔
یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ منصوبے میں تاخیر کے باعث اضافی اخراجات کس مد میں ہوئے، ان کی منظوری کس سطح پر دی گئی اور متعلقہ اداروں نے ان اخراجات کو کم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے۔
افسران کے خلاف کارروائی، مگر منصوبے کی تکمیل کب؟
منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی گرفتاری اور پروکیورمنٹ منیجر کو مقدمے میں نامزد کیے جانے کے بعد بھی منصوبے کی بنیادی مشکلات پر بحث جاری ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے کیا پیش رفت ہوئی اور کیا ڈیزائن، کنسلٹنسی، تعمیراتی نگرانی اور انتظامی فیصلوں سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا؟
کسی افسر کے خلاف قانونی کارروائی اپنی جگہ، تاہم منصوبے کی تاخیر کے تمام اسباب سامنے لانا اور ہر متعلقہ ادارے کی ذمہ داری کا تعین کرنا بھی ضروری ہے۔
ٹرانس کراچی کے چیئرمین سے اہم سوالات، مؤقف طلب
اس معاملے پر ٹرانس کراچی کے چیئرمین بورڈ ڈاکٹر سروش حشمت لودھی کو واٹس ایپ کے ذریعے سوالنامہ ارسال کیا گیا ہے، جس میں ان کی تقرری، اختیارات، ادارے کے انتظامی معاملات اور کنسلٹنٹ کمپنی انجینئرز ایکسپوننٹ سے متعلق مختلف سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سوالنامے میں ڈاکٹر سروش حشمت لودھی سے دریافت کیا گیا ہے کہ وہ کب سے ٹرانس کراچی کے چیئرمین بورڈ کے عہدے پر فائز ہیں، ان کی مدتِ تقرری کیا ہے اور منصوبوں کی نگرانی میں ان کے اختیارات اور ذمہ داریاں کیا ہیں؟
ان سے ٹرانس کراچی کے زیر انتظام منصوبوں کی تعداد، ان کی تخمینہ لاگت، متوقع تکمیل اور فنڈنگ کے ذرائع سے متعلق تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔
مزید برآں انجینئرز ایکسپوننٹ کو دیے گئے منصوبوں، کمپنی کی تقرری کی تاریخ، کنسلٹنسی فیس اور انتخاب کے طریقہ کار کے بارے میں بھی وضاحت مانگی گئی ہے۔ سوالنامے میں یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ کیا کمپنی کی تقرری مسابقتی پروکیورمنٹ کے ذریعے عمل میں لائی گئی تھی؟
ڈاکٹر سروش حشمت لودھی سے کمپنی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے ساتھ مبینہ خاندانی تعلق کی تصدیق یا تردید، اس حوالے سے بورڈ کو آگاہ کرنے اور مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ سے بچنے کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ کمپنی کی پیشہ ورانہ اہلیت کے جائزے، منصوبے کے تکنیکی آڈٹ اور پروکیورمنٹ سے متعلق ریکارڈ عوام کے سامنے لانے کے حوالے سے بھی سوالات کیے گئے ہیں۔
چیئرمین ٹرانس کراچی کا مؤقف موصول ہونے پر اسے خبر کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ معاملے کے تمام متعلقہ پہلو سامنے آ سکیں۔
شہریوں کو منصوبے کی تکمیل کی واضح تاریخ درکار
کراچی ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کی تاخیر اب محض تعمیراتی سرگرمیوں کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کا تعلق عوامی وسائل کے استعمال، ادارہ جاتی جواب دہی اور شہریوں کو بنیادی سفری سہولت فراہم کرنے سے بھی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ منصوبے کے ڈیزائن، کنسلٹنسی، پروکیورمنٹ، تعمیراتی معاہدوں اور انتظامی فیصلوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔ تاخیر کے حقیقی اسباب اور مالی نقصانات کا تعین کرتے ہوئے ذمہ دار اداروں کی نشاندہی کی جائے اور منصوبے کی تکمیل کے لیے قابلِ عمل ٹائم لائن عوام کے سامنے پیش کی جائے۔
کراچی کے شہریوں کے لیے سب سے اہم سوال بدستور یہی ہے کہ ریڈ لائن منصوبہ کب مکمل ہوگا، سڑکوں کی تعمیر اور کھدائی کا سلسلہ کب ختم ہوگا اور انہیں جدید، محفوظ اور مؤثر عوامی ٹرانسپورٹ کی سہولت کب میسر آئے گی؟
بشکریہ روزنامہ جسارت