ہفتہ، 7 نومبر، 2026 · 28 جمادی الاول، 1448 ہجری

ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد میں پاکستان دنیا میں سرفہرست، متاثرین کی تعداد 1 کروڑ 29 لاکھ تک پہنچ گئی

قومی خبریں
ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد میں پاکستان دنیا میں سرفہرست، متاثرین کی تعداد 1 کروڑ 29 لاکھ تک پہنچ گئی

پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ نے صحت عامہ کے لیے سنگین صورت حال پیدا کردی، ملک میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد 1 کروڑ 29 لاکھ تک جا پہنچی ہے، جبکہ ہر سال ہزاروں افراد جگر کی خطرناک بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں پہلے نمبر پر آگیا ہے۔ رپورٹ قومی اسمبلی میں بھی پیش کردی گئی ہے۔

قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 20 ہزار افراد ہیپاٹائٹس کی پیچیدگیوں کے باعث جگر کے سرطان اور جگر کے سکڑنے جیسے مہلک امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ بیماری کی سنگین صورت حال کے پیش نظر وفاقی حکومت نے اس کے پھیلاؤ کی روک تھام اور متاثرہ افراد کے علاج کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کردیے ہیں۔

وزیراعظم انسداد ہیپاٹائٹس پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر ضیاء نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار میں پاکستان کو ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے دنیا میں پہلے نمبر پر قرار دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مرض کی پیچیدگیوں کے باعث ہر 20 منٹ میں ایک شخص زندگی کی بازی ہار رہا ہے، جو ملک میں اس بیماری کے سنگین اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔

بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج کی سہولت عام کرنے کے لیے وزیراعظم انسداد ہیپاٹائٹس پروگرام کے تحت اسلام آباد میں شہریوں کی مفت طبی جانچ کا سلسلہ جاری ہے۔

اس منصوبے کے تحت ابتدائی ٹیسٹ میں مرض کی موجودگی سامنے آنے پر مزید تشخیص اور علاج کی سہولیات بھی بلا معاوضہ فراہم کی جارہی ہیں، جبکہ پروگرام کو وفاقی دارالحکومت سے آگے دیگر علاقوں تک وسعت دینے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات میں عطائی معالجین کی جانب سے غیر محفوظ طریقہ علاج، دندان سازی کے دوران آلودہ آلات کا استعمال، آپریشن تھیٹروں میں طبی آلات کی مناسب صفائی نہ ہونا اور غیر محفوظ خون کی منتقلی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ایک ہی سرنج کو بار بار استعمال کرنا بھی وائرس کی منتقلی کا اہم سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مرض پر قابو پانے کے لیے طبی مراکز میں صفائی کے معیارات پر سختی سے عمل درآمد، محفوظ انتقال خون اور استعمال شدہ سرنجوں کی دوبارہ روک تھام ضروری ہے۔ وفاقی حکومت نے ملک سے ہیپاٹائٹس کے مکمل خاتمے کے لیے 2030 تک کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے تحت بیماری کی تشخیص، علاج اور عوامی آگاہی کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت