ہفتہ، 7 نومبر، 2026 · 28 جمادی الاول، 1448 ہجری

بینک اسکینڈل کے باعث پیراگوئے کے صدر اقتدار سے محروم ہوگئے

قومی خبریں
بینک اسکینڈل کے باعث پیراگوئے کے صدر اقتدار سے محروم ہوگئے

جنوبی امریکی ملک پیراگوئے میں ایک بڑے ڈیجیٹل بینک کے مالیاتی بحران نے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں پارلیمان نے صدر سینتیاگو پینا کو عہدے سے برطرف کردیا جبکہ مواخذے کی منظوری کے چند ہی منٹ بعد حکام نے سابق صدر کو ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کردیا۔ ان پر بینک کے معاملات میں مبینہ مداخلت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور مفادات کے ٹکراؤ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

خبر رساں اداروں ایسوسی ایٹڈ پریس اور اے ایف پی کے مطابق 6 نومبر 2026 کو پیراگوئے کی سینیٹ میں صدر کے مواخذے کے لیے رائے شماری ہوئی، جس میں شریک تمام 44 سینیٹرز نے ان کی برطرفی کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ایک رکن اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔ اس طرح سینتیاگو پینا کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

صدر کے خلاف کارروائی کا بنیادی سبب ملک کے بڑے ڈیجیٹل مالیاتی ادارے ’’یوئینو بینک‘‘ کا بحران بنا، جو شدید مالی مشکلات اور لازمی سرمایہ جاتی شرائط پوری کرنے میں ناکامی کے باعث حکومتی کارروائی کی زد میں آگیا تھا۔ مرکزی بینک نے 3 نومبر کو ادارے کا انتظامی کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا، جس کے بعد بینک کے تقریباً 30 لاکھ صارفین اپنے کھاتوں، جمع پونجی اور بینک کارڈز تک رسائی سے محروم ہوگئے۔

بینک کے متاثرہ صارفین کی تعداد ملک کی بالغ آبادی کے تقریباً 60 فیصد کے برابر بتائی گئی ہے۔ صورتحال کی سنگینی میں اس وجہ سے بھی اضافہ ہوا کہ بینک میں سرکاری اداروں اور پنشن فنڈز کی بھی سینکڑوں ملین ڈالر مالیت کی رقوم جمع تھیں، جس سے مالیاتی بحران کے اثرات عام شہریوں کے ساتھ سرکاری مالیاتی نظام تک پھیل گئے۔

سینیٹ میں مواخذے کی کارروائی کے بعد حکام نے فوری طور پر سابق صدر کو ان کی رہائش گاہ پر نظر بند کردیا، جبکہ بینک کے مالی معاملات اور حکومتی عہدیداروں کے ممکنہ کردار کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ صدر پر عائد الزامات کا تعلق بینک کے معاملات میں مبینہ مداخلت اور نگرانی کے عمل پر اثرانداز ہونے سے ہے۔

بینک کے بحران نے پیراگوئے میں نہ صرف لاکھوں شہریوں کی جمع پونجی تک رسائی متاثر کی بلکہ ملک میں شدید سیاسی بے چینی بھی پیدا کردی، جس کے بعد صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔

بشکریہ روزنامہ جسارت