ہفتہ، 7 نومبر، 2026 · 28 جمادی الاول، 1448 ہجری

ہیوسٹن کے میئر کا ICE سے پولیس تعاون محدود کرنے کا حکم، تارکینِ وطن کو ریلیف دینے کا فیصلہ

قومی خبریں
ہیوسٹن کے میئر کا ICE سے پولیس تعاون محدود کرنے کا حکم، تارکینِ وطن کو ریلیف دینے کا فیصلہ

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن کے میئر جان وائٹمائر نے وفاقی امیگریشن ادارے ICE کے ساتھ مقامی پولیس کا تعاون محدود کرنے کے لیے ایگزیکٹو آرڈر جاری کردیا ہے۔

نئے حکم کے تحت معمولی ٹریفک خلاف ورزیوں اور ایسے غیر متشدد جرائم میں پولیس امیگریشن حکام سے معمول کے مطابق رابطہ نہیں کرے گی جن میں قید کی سزا نہیں ہوتی۔

میئر نے پولیس چیف جے نوئے ڈیاز کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پولیس کی ترجیح عوامی تحفظ کے لیے حقیقی خطرہ بننے والے افراد ہونے چاہئیں، نہ کہ وہ تارکینِ وطن جو اپنے خاندانوں کے ساتھ پُرامن زندگی گزار رہے ہیں، ملازمت کرتے یا تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان کے مطابق اس فیصلے کا مقصد تارکینِ وطن میں خوف کم کرنا اور پولیس و شہریوں کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہے۔

پولیس چیف کے مطابق معمول کے سول امیگریشن وارنٹ پر ICE سے خودکار رابطہ نہیں کیا جائے گا، تاہم ایسے جرم میں گرفتاری کی صورت میں جس کی سزا قید ہو، اور متعلقہ شخص کے خلاف امیگریشن وارنٹ بھی موجود ہو تو پولیس مقررہ طریقہ کار کے تحت وفاقی حکام کو اطلاع دے سکتی ہے۔

میئر نے 3 نومبر کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی فیصلے حکومتی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں اور وہ اس حکم نامے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار جینا ہینو ہوزا نے گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دی تھی، جس کے بعد 32 سال بعد ٹیکساس کے گورنر ہاؤس میں ڈیموکریٹس کی واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔

ہیوسٹن میں اس سے قبل بھی امیگریشن پالیسی پر تنازع سامنے آچکا ہے۔ 2026 میں سٹی کونسل نے پولیس کے لیے ICE اہلکاروں کا 30 منٹ انتظار کرنے کی پالیسی ختم کرنے کی کوشش کی تھی، جس پر گورنر ایبٹ نے شہر کی تقریباً 110 ملین ڈالر کی پبلک سیفٹی گرانٹس روکنے کی دھمکی دی تھی۔ بعد ازاں شہری انتظامیہ نے یہ پالیسی واپس لے لی تھی۔

گورنر ایبٹ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ پولیس کا وفاقی امیگریشن حکام سے تعاون محدود کرنا ریاستی قانون SB 4 سے متصادم ہوسکتا ہے۔ یہ قانون بدستور نافذ ہے، اس لیے میئر کے نئے حکم نامے کو قانونی چیلنج کا سامنا ہوسکتا ہے۔

یہ فیصلہ ہیوسٹن میں امیگریشن حکام کی کارروائیوں پر عوامی ردعمل کے دوران سامنے آیا ہے۔ تارکینِ وطن کے حقوق کی تنظیم FIEL نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا، جبکہ ICE نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومتوں کو امیگریشن قوانین کے نفاذ میں وفاقی اداروں کا تعاون محدود نہیں کرنا چاہیے۔

حکم نامہ ICE کی کارروائیوں پر براہِ راست پابندی عائد نہیں کرتا اور نہ ہی غیر قانونی امیگریشن کو قانونی حیثیت دیتا ہے، بلکہ اس کا تعلق صرف ہیوسٹن پولیس کے مقامی طریقہ کار سے ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اب یہ دیکھا جائے گا کہ ڈیلاس، آسٹن اور سان انتونیو جیسے دیگر بڑے شہر بھی اسی نوعیت کی پالیسی اختیار کرتے ہیں یا نہیں۔

بشکریہ روزنامہ جسارت