امریکا ایران میں ممکنہ بڑی فوجی کارروائیوں کی تیاریوں میں مصروف، مشاورت جاری

واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ ایران میں بڑی عسکری کارروائیوں کے ممکنہ دوبارہ آغاز کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دے رہی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے داخلی سطح پر منصوبہ بندی کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کشیدگی اور ممکنہ فوجی اقدامات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بدھ اور جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ اہم ملاقاتیں کیں۔ ان اجلاسوں میں خطے کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سینٹرل کمانڈ کو تاحال واشنگٹن کی جانب سے ایران میں براہ راست کارروائی کرنے کے لیے کوئی حتمی ہدایات موصول نہیں ہوئیں، تاہم فوج کسی بھی وقت ملنے والے احکامات پر فوری عمل درآمد کے لیے اپنے دفاعی ڈھانچے کو مکمل طور پر فعال رکھ رہی ہے۔
نیویارک ٹائمز کا دعویٰ ہے کہ امریکی اور اسرائیلی عسکری قیادت نے ایران پر مختصر مگر انتہائی شدید حملوں کا ایک جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ یہ کارروائیاں صدر ٹرمپ کی باقاعدہ اجازت ملنے کے بعد شروع کی جائیں گی، جس کا مقصد ایران کے عسکری اور تزویراتی اثاثوں کو نشانہ بنانا ہے۔
محکمہ دفاع کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ممکنہ حملوں میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے اور سمندر میں تعینات 12 سے زائد بحری جہاز کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ان حملوں کے ذریعے ایران کے انرجی انفرا اسٹرکچر، جوہری تنصیبات اور میزائل و ڈرون ذخائر کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔
یہ پیشرفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ ہے جہاں امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے پر غور کر رہا ہے۔
عالمی مبصرین اس صورتحال کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ کسی بھی غلط اندازے سے خطے میں ایک وسیع جنگ چھڑ سکتی ہے۔
فی الحال امریکی انتظامیہ کی جانب سے ان تمام تر تیاریوں کو ایک احتیاطی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی منصوبہ بندی کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور اسے اپنی علاقائی پالیسیوں میں تبدیلی لانے پر مجبور کرنا ہو سکتا ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت