بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں اربوں روپے کی کرپشن اور بے ضابطگیوں کا انکشاف

لاہور: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی حالیہ آڈٹ رپورٹ نے ملکی سطح پر ہلچل مچا دی ہے جس میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں میں سرکاری افسران اور ان کے اہل خانہ شامل ہیں۔
آڈٹ دستاویزات کے مطابق ایک شہری کی 7 بیویاں پروگرام میں رجسٹرڈ پائی گئی ہیں، جو سسٹم کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے۔ گریڈ 17 سے 20 تک کے 107 افسران سمیت 12 ہزار سے زائد سرکاری ملازمین اور پنشنرز نے ناجائز طور پر سرکاری امداد کے اربوں روپے وصول کیے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2022 سے 2024 کے دوران سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ میں 51 کروڑ 57 لاکھ روپے سے زائد کی خطیر رقم تقسیم کی گئی۔ خواتین کے لیے مختص امداد 450 سے زائد مردوں کو بھی غلط صنفی ریکارڈ کے ذریعے ادا کی گئی ہے۔
لاہور میں ایک ہی شناختی کارڈ پر متعدد خواتین کو رقوم کی ادائیگی کے 5 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں، جن پر 24 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ اس کے علاوہ 7 ہزار غیر شادی شدہ خواتین کو شادی شدہ ظاہر کر کے 10 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں۔
تعلیمی وظائف کے ریکارڈ میں بھی بڑی خورد برد پکڑی گئی ہے جہاں 278 سرکاری ملازمین کو طالب علم ظاہر کر کے ان کی ماؤں کے نام پر 25 لاکھ روپے سے زائد جاری کیے گئے۔
اسی طرح 5 جامعات کے اسکالرشپ فنڈز کے جائز استعمال کا کوئی دستاویزی ثبوت بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
بی آئی ایس پی انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ غلط ریکارڈ ابتدائی سروے کا نتیجہ ہے جسے بعد میں درست کیا جا رہا ہے، تاہم محکمہ جاتی اکاؤنٹس کمیٹی نے ان سنگین بے ضابطگیوں کی مکمل تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے تمام نااہل افراد سے سرکاری رقوم کی وصولی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
امدادی رقوم میں خورد برد کی تقریباً 9 ہزار شکایات تاحال حل طلب ہیں جن میں کروڑوں روپے ملوث ہیں۔ حکومتی سطح پر شفافیت کے دعووں کے برعکس، یہ آڈٹ رپورٹ بی آئی ایس پی جیسے اہم فلاحی پروگرام میں جاری بدانتظامی اور خورد برد کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت