کارکردگی کام نہ آئی: شان مسعود سلیکٹرز کی نظروں سے دور، ٹیسٹ ٹیم سے فارغ

لاہور: پاکستان کے تجربہ کار بیٹر شان مسعود اب قومی ٹیسٹ ٹیم کے مستقبل کے منصوبوں کا حصہ نہیں رہے ہیں۔
بنگلا دیش کے خلاف آئندہ سیریز کے لیے انہیں ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے، جس کے بعد ان کا بین الاقوامی کیریئر اب خطرے میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔
ٹیم کے نئے کوچ مائیک ہیسن نے واضح کیا ہے کہ وہ اب تجربہ کار کھلاڑیوں کے بجائے نوجوان ٹیلنٹ کو زیادہ مواقع دینے کے حق میں ہیں۔ اس نئی حکمت عملی کے تحت سلیکشن کمیٹی نے شان مسعود کو مستقبل کی منصوبہ بندی سے مکمل طور پر باہر کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حیران کن ہے کیونکہ گزشتہ 2 برس میں شان مسعود نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔ انہوں نے اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 773 رنز اسکور کیے ہیں، جو بابر اعظم اور محمد رضوان جیسے کھلاڑیوں سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔
ذرائع کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شان مسعود کا بورڈ کے کچھ اہم آفیشلز کے ساتھ رویہ بھی ان کی ڈراپنگ کی بڑی وجہ بنا ہے۔ ایک ملاقات کے دوران انہوں نے بعض حکام پر تنقید کی تھی، جس کے بعد سے وہ انتظامیہ کی گڈ بکس سے باہر ہو چکے تھے۔
اگرچہ شان مسعود کو مکمل طور پر فٹ نہیں قرار دیا جا رہا تھا، لیکن ان کا ٹیم سے اخراج صرف طبی وجوہات کی بنا پر نہیں ہے۔ ٹیم کی حالیہ ناقص کارکردگی کے بعد ان سے کپتانی بھی واپس لے لی گئی تھی، جس کے بعد ان کی پوزیشن مزید کمزور پڑ گئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں ایک طرف 37 سالہ شان مسعود کو عمر کے تناظر میں باہر کیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف محمد عباس جیسے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنا دوغلی پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس غیر واضح پالیسی پر کرکٹ حلقوں میں بحث شروع ہو چکی ہے۔
فی الحال شان مسعود قائد اعظم ٹرافی کے میچز میں بھی حصہ نہیں لے رہے ہیں، جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اب ان کی خدمات حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ مستقبل میں ان کی واپسی کے امکانات نہ ہونے کے برابر دکھائی دیتے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ جسارت