رات کو دن میں بدلنے کی تیاری: روشنی کیلیے خلا میں بڑے آئینے نصب کرنے کا منصوبہ

واشنگٹن: امریکی خلائی ٹیکنالوجی کمپنی ریفلیکٹ آربیٹل نے رات کے اوقات میں زمین تک سورج کی روشنی پہنچانے کا ایک جدید اور غیر معمولی منصوبہ پیش کیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت خلا میں بڑے سائز کے آئینے نصب کیے جائیں گے جو سورج غروب ہونے کے بعد بھی روشنی کو زمین کے مخصوص علاقوں تک منعکس کریں گے۔
کمپنی کی جانب سے 18×18 میٹر کے آئینے زمین کے نچلے مدار میں بھیجے جائیں گے تاکہ توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ یہ ٹیکنالوجی شمسی توانائی کے منصوبوں کو بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ہنگامی حالات اور قدرتی آفات میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ریفلیکٹ آربیٹل نے اس ٹیکنالوجی کی جانچ کے لیے راکٹ بنانے والی فرم کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔
اس منصوبے کا پہلا تجربہ 2027ء کی دوسری سہ ماہی میں ایئرینڈل ون نامی سیٹلائٹ کے ذریعے کیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں یہ روشنی 5 کلومیٹر کے علاقے کو روشن کرے گی۔
کمپنی کا طویل مدتی ہدف 2035ء تک 50 ہزار سیٹلائٹس کا نیٹ ورک بنانا ہے، جس کے ذریعے صارفین موبائل ایپ کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ضرورت کے مطابق کسی بھی مقام پر روشنی حاصل کر سکیں گے۔ ابتدائی طور پر اس روشنی کی شدت چاندنی کے برابر رکھنے کی تجویز ہے۔
منصوبے کو امریکی ریگولیٹری ادارے سے منظوری مل چکی ہے، لیکن یہ پیش رفت ماحولیاتی اور فلکیاتی تحفظات کا باعث بھی بن رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق خلا سے منعکس ہونے والی روشنی زمین کی فضا میں بکھر کر قدرتی تاریکی کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے فلکیاتی مشاہدات میں دشواری پیش آئے گی۔
تحقیقی ماڈلز یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ روشنی مقررہ حد سے زیادہ پھیل سکتی ہے اور اطراف کے علاقوں میں مصنوعی چمک پیدا کر سکتی ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام رات کے قدرتی ماحول کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے اور اس کی اجازت پر نظر ثانی ضروری ہے۔
فی الحال یہ منصوبہ آزمائشی مراحل سے گزر رہا ہے جس کی کامیابی کا انحصار آئینوں کی درست پوزیشن اور انسانی زندگی پر مرتب ہونے والے اثرات پر ہے۔
یہ سائنسی تجربہ توانائی کے شعبے میں انقلاب برپا کر سکتا ہے، تاہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے مزید جامع تحقیق اور عملی نتائج درکار ہوں گے۔
بشکریہ روزنامہ جسارت