جمعہ، 6 نومبر، 2026 · 27 جمادی الاول، 1448 ہجری

اٹلی میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے 20 سال پرانی چوری شدہ پینٹنگ مل گئی

قومی خبریں
اٹلی میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے 20 سال پرانی چوری شدہ پینٹنگ مل گئی

روم: اٹلی میں پولیس نے مصنوعی ذہانت کی جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے سترہویں صدی کا ایک انتہائی نایاب اور تاریخی فن پارہ کامیابی سے تلاش کر لیا ہے۔

یہ قیمتی پینٹنگ تقریباً 20 سال قبل نیپلز کے ایک چرچ سے چوری کر لی گئی تھی۔

11 اگست 2004 کو نیپلز کے قریب واقع چرچ سے چوری ہونے والی اس پینٹنگ میں سینٹ ایگنس کی شبیہ بنی ہوئی تھی۔ چوروں نے شناخت چھپانے کے لیے اس پینٹنگ میں ردوبدل کر کے اسے ایک عام نوجوان خاتون کی تصویر کا روپ دے دیا تھا۔

اکتوبر 2024ء میں اٹلی کے شہر پارما میں منعقدہ قدیم نوادرات کے ایک میلے کے دوران پولیس کی جانب سے فن پاروں کا ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا تھا۔ اسی دوران اے آئی سسٹم نے مشکوک پینٹنگ کی نشاندہی کی اور ساخت کا موازنہ کر کے حقیقت واضح کر دی۔

اٹلی کی پولیس نے 2020ء میں چوری شدہ فن پاروں کی شناخت کے لیے خصوصی نظام تشکیل دیا تھا جسے اسٹولن ورکس آف آرٹ ڈیٹیکشن سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہ جدید نظام نومبر 2023ء میں باقاعدہ طور پر آپریشنل ہوا اور اپنا کام شروع کر دیا۔

یہ ٹیکنالوجی انٹرنیٹ، آن لائن نیلام گھروں اور تجارتی ویب سائٹس پر موجود تصاویر کا چوری شدہ نوادرات کے ڈیٹا بیس سے موازنہ کرتی ہے۔

حکام نے بتایا کہ یہ نظام اب تک 300 سے زائد بڑی پینٹنگز اور مجسموں سمیت ایک لاکھ 65 ہزار اشیا ڈھونڈ چکا ہے اور برآمد ہونے والے ان نوادرات کی مجموعی مالیت 20 کروڑ 30 لاکھ یورو سے بھی زیادہ بنتی ہے۔

یہ ایک بڑی کامیابی ہے جس نے دنیا بھر میں تاریخی ورثے کی حفاظت کے لیے مصنوعی ذہانت کی افادیت کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے اور ماہرین اسے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہیں۔

طویل تحقیقات اور شناخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد 20 مئی 2025ء کو یہ نایاب فن پارہ متعلقہ چرچ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پینٹنگ کو اس کی اصل حالت میں بحال کرنے کے بعد اسے دوبارہ چرچ میں عوامی نمائش کے لیے مخصوص مقام پر آویزاں کیا جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ جسارت